ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 577
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۷ ازالہ اوہام حصہ دوم جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکر ہوا۔ کیا یہ حدیث مسلم میں نہیں ہے اور آپ کا یہ عذر کہ الدجال دجال معہود کا خاص نام نہیں ہے ، آپ کی غباوت اور کم علمی پر اول درجہ کی شہادت ہے۔ حضرت مولوی صاحب ! اگر آپ صحیح بخاری یا مسلم یا کسی اور صحیح حدیث سے یہ مجھے ثابت کر کے دکھلا دیں کہ الدجال کا لفظ بجز دجال معہود کے کسی اور پر بھی صحابہ کے منہ سے اطلاق بہ اطلاق پایا ہے تو میں بجائے پا بجائے پانچ روپے کے پچاس روپے آپ کی نذر کروں گا ۔ آپ کیوں اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔ چپکے رہیں حقیقت معلوم شد ۔ پھر ایک اور جھوٹ اور افتراء میرے پر آپ نے اپنے اشتہار میں یہ کیا ہے کہ گویا میں سچ مچ ۸۷۵﴾ اپنے علم یقینی اور قطعی سے بخاری اور مسلم کی بعض احادیث کو موضوع سمجھتا ہوں ۔ حضرت میرا یہ قول نہیں ۔ معلوم نہیں کہ آپ کیوں اور کس وجہ سے اس قدر افتراء میرے پر دھاپ رہے ہیں اور کب سے جعلسازی کی مشق آپ کو ہوگئی ہے۔ میں تو صرف اس قدر کہتا ہوں کہ اگر بخاری اور مسلم کی بعض اخباری حدیثوں کے اس طرز پر معنے نہ کئے جاویں جو قرآن کے اخبار سے مطابق و موافق ہوں تو پھر اس صورت میں وہ حدیثیں موضوع ٹھہریں گی کیونکہ اصول فقہ کا یہ مسئلہ ہے که انــمــا يـرد خـبـر الـواحـد من معارضة الكتب میں نے کب اور کس وقت کہا تھا کہ در حقیقت قطعی اور یقینی طور پر فلاں فلاں حدیث بخاری یا مسلم کی میرے نزدیک موضوع ہے۔ مولوی صاحب حیا اور شرم شعبہ ایمان ہے فاتقوا الله وكونوا من المؤمنين - پھر آپ اپنی ٹانگ خشک ہونے کی خواب سے نیم انکار کر کے لکھتے ہیں کہ یہ نقل کذب اور افتراء سے خالی نہیں ۔ آپ کا یه مقتنا نه فقره صاف دلالت کر رہا ہے کہ کسی قدر اس بیان کی صداقت کا آپ کو اقرار ہے کیونکہ آپ کا چھپا ہوا یہ منشاء ہے کہ اس خواب کو جیسا کہ نقل کیا گیا ہے وہ صورت نقل افتراء سے خالی نہیں کیونکہ آپ نے یہ بیان نہیں کیا کہ یہ نقل سرا سر افتراء ہے بلکہ یہ بیان کیا ہے کہ یہ نقل افتراء سے ۸۷۲