ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 572
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۲ ازالہ اوہام حصہ دوم اُٹھ کھڑے ہوئے اور گاڑی میں کہ جو چپکی دروازہ پر کھڑی تھی ایسے جلدی ہوا ہو کر بھاگے کہ آپ کے ہمراہی چلتی گاڑی پر دوڑ کر سوار ہوئے ۔ اس افتراء کا میں کیا جواب دوں ۔ بجز ۸۶۶﴾ اس کے کہ علی الکاذبین کہوں یا آپ ہی کا قول مندرجہ اشتہار آپ کی خدمت میں واپس دوں کہ جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی ۔ حضرت وہ گاڑی منشی میراں بخش صاحب اکونٹنٹ کی تھی جو دروازے پر کھڑی تھی اور وہ خود جلسہ بحث میں تشریف رکھتے تھے اور وہی اس پر سوار ہو کر آئے تھے۔ تمام بازاری اس بات کے گواہ ہیں ۔ منشی صاحب موصوف سے دریافت کیجئے کہ برخاست جلسہ بحث کے وقت اس پر کون سوار ہوا تھا اور کیا میں اپنے مکان تک آہستہ چال سے پیادہ آیا تھا یا اُس گاڑی پر ایک قدم بھی رکھا تھا۔ میرے ساتھ اُس وقت شاید قریب تین آدمی کے ہوں گے جو سب پیادہ آئے تھے اور جب ہم اپنے مکان کے قریب پہنچ گئے تو منشی میراں بخش صاحب گاڑی پر سوار آپہنچے اور عذر کیا کہ میں سوار آیا اور آپ پیادہ آئے۔ اس قدر افتراء کیا اندھیر کی بات ہے کیا جھوٹ مولویوں کے ہی حصہ میں آگیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آپ کی عہد شکنی نہایت قابل افسوس ہے۔ آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ آپ سے یہ شرط ہو چکی تھی کہ زبانی گفتگو ایک کلمہ تک نہ ہو جو کچھ ہو بذریعہ تحریر ہو جیسا کہ آپ نے اپنے اشتہار میں بھی لکھ دیا ہے لیکن آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے عمداً ۸۲۷) اس شرط کو توڑ دیا اور جب آپ توڑ چکے اور عہد شکنی کے طور پر مضمون سنانے کے محل میں زبانی وعظ بھی کر چکے تب میں نے آپ کو کہا کہ اب زبانی وعظ کرنا میرا بھی حق ہوگا ۔ پس اگر میں نے مضمون سنانے کے وقت میں چند کلمے زبانی بھی کہے تو کیا یہ عہد شکنی تھی یا آپ کی عہد شکنی کا عوض معاوضہ تھا جس کی نسبت میں وعدہ کر چکا تھا۔ حضرت مولوی محمد حسن صاحب جو رئیس اور آپ کے دوست ہیں جن کے مکان پر آپ نے یہ عہد شکنی کی تھی اگر قسم کھا کر میرے روبرو میرے اس بیان کا انکار کریں تو پھر میں اس الزام سے دست بردار ہو جاؤں گا ورنہ آپ ناراض نہ ہوں ۔ آپ بلا شبہ جریمہ عہد شکنی کے کئی دفعہ