ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 512
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۲ ازالہ اوہام حصہ دوم بڑی ہتک ہے جس نے یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ اس اُمت میں مثیل انبیاء بنی اسرائیل پیدا ہوں گے۔ ۷۷۳﴾ اور اگر یہ کہا جائے کہ جس حالت میں اصل عیسی بن مریم آنے والا نہیں تھا بلکہ اس کا مثیل ا ۷۶۴ آنے والا تھا تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ مثیل آنے والا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عام محاورہ ہے کہ جب متکلم کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ مہ که مشبہ اور مشبہ بہ میں مما میں مماثلت نام ہے تو مشبہ کا مشبه به پر حمل کر دیتا ہے تا انطباق کلی ہو جیسے امام بخاری کی نسبت ایک جلسہ میں کہا گیا کہ دیکھو یہ احمد حنبل آیا ہے الخ اور جیسے کہتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور یہ نوشیرواں ہے یہ حاتم ہے یا مثلا جیسے کوئی کسی کو کہتا ہے کہ تو گدھا ہے یا بندر ہے۔ اور نہیں کہتا کہ تو گدھے کی مانند ہے یا بندر کی مانند کیونکہ وہ مطلب مماثلت تامہ کا جو اس کے دل میں ہوتا ہے مانند کہنے سے فوت ہو جاتا ہے اور جس کیفیت کو وہ ادا کرنا چاہتا ہے وہ ان لفظوں سے ادا نہیں ہو سکتی ۔ فتدبر امت احمد نہاں دارد دو ضد را در وجود می تواند شد مسیحا می تواند شد یهود زمرہ زیشاں ہمہ بدطینتان را جائے سنگ زمرہ دیگر بجائے انبیا دارد قعود بعض نہایت سادگی سے کہتے ہیں کہ سلاطین کی کتاب میں جو لکھا ہے کہ ایلیاء جسم کے سمیت آسمان پر اٹھایا گیا تو پھر کیا مسیح ابن مریم کے اُٹھائے جانے میں کچھ جائے اشکال ہے تو اُن کو واضح ہو کہ در حقیقت ایلیا بھی خاکی جسم کے ساتھ نہیں اُٹھایا گیا تھا۔ چنانچہ مسیح نے اس کی وفات کی طرف اشارہ کر دیا جبکہ اس نے یہودیوں کی وہ امید توڑ دی جو وہ اپنی خام خیالی سے باندھے ہوئے تھے اور کہہ دیا کہ وہ ہرگز نہیں آئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ جسم خاکی کے ساتھ اُٹھایا جاتا تو پھر خاک کی طرف اس کا رجوع کرنا ضروری تھا کیونکہ لکھا ہے کہ خا کی جسم