ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 509
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۹ ازالہ اوہام حصہ دوم پھر دوسرے پہلو میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس تنزل کے زمانہ میں کہ جب مسلمان لوگ ایسے یہودی بن جائیں گے کہ جو عیسی بن مریم کے وقت میں تھے تو اُس وقت اُن کی اصلاح کے لئے ایک مسیح ابن مریم بھیجا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر اس پیشگوئی کے وہ دونوں ٹکڑے اکٹھے کر کے پڑھے جائیں جو ایک طرف اس اُمت میں یہودیت کو قائم کرتے ہیں اور دوسری طرف مسیحیت کو تو پھر اس بات کے سمجھنے کے لئے کوئی اشتباہ باقی نہیں رہتا کہ یہ دونوں صفتیں اسی ۷۵۸﴾ امت کے افراد کی طرف منسوب ہیں اور ان حدیثوں کی قرآن کریم کے منشاء سے اسی صورت میں تطبیق ہوگی کہ جب یہ دونوں صفتیں اسی اُمت کے متعلق کی جائیں کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن شریف وعدہ فرما چکا ہے کہ خلافت محمد یہ کا سلسلہ باعتبار اول اور آخر کے بعینہ خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مماثل و مشابہ ہے یعنی اس اُمت کے اعلیٰ اور ادنی افراد کا بنی اسرائیل کی امت سے نتشابه قلوب ہے اعلیٰ کی اعلیٰ سے اور ادنی کی ادنی سے۔ اور یہ دونوں سلسلے اپنی ترقی اور تنزل کی حالت میں بالکل باہم مماثل اور مشابہ ہیں اور جیسا کہ موسوی شریعت چودہ سو برس کے قریب عمر پا کر اس مدت کے آخری ایام میں اوج اقبال سے گر گئی تھی اور ہر یک بات میں تنزل راہ پا گیا تھا کیا دنیوی حکومت وسلطنت میں اور کیا دینی تقویٰ اور طہارت میں ۔ یہی تنزل اسی مدت کے موافق اسلامی شریعت میں بھی راہ پا گیا ۔ اور موسوی شریعت میں تنزل کے ایام کا مصلح جو منجانب اللہ آیا وہ مسیح ابن مریم تھا۔ پس ضرور تھا کہ دونو سلسلہ میں پوری مماثلت دکھلانے کی ﴿۷۵۹ غرض سے اسلامی تنزل کے زمانہ میں بھی کوئی مصلح مسیح ابن مریم کے رنگ پر آتا اور اسی زمانہ کے قریب قریب آتا جو موسوی شریعت کے تنزل کا زمانہ تھا۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو قرآن شریف سے مترشح ہوتی ہیں۔ جب ہم قرآن شریف پر غور کریں تو گویا وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ یہی سچ ہے تم اس کو قبول کرو لیکن افسوس کہ ہمارے علماء سچائی کو دیکھ کر پھر اُس کو