ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 481

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۸۱ ازالہ اوہام حصہ دوم رکھنے والا اور اُن کی پر فیض صحبتوں کے رنگ سے رنگین ہے بیان فرماتے تھے کہ حقیقت میں میاں کریم بخش یعنی یہ بزرگ سفید ریش بہت اچھا آدمی ہے اور اعتبار کے لائق ہے مجھ کو اس پر کسی طور سے شک نہیں ہے۔ اب وہ کشف جس طور سے میاں کریم بخش موصوف نے اپنے تحریری اظہار میں بیان کیا ہے اس اظہار کی نقل معہ ان تمام شہادتوں کے جو اس کا غذ پر ثبت ہیں ذیل میں ہم لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ میرا نام کریم بخش والد کا نام غلام رسول قوم اعوان ساکن جمالپوراء اعوان ساکن جمالپور اعوا نه تحصیل لودھیا نہ پیشه زمینداری عمر ری عمر تخمینا چونسٹھ سال نا چونسٹھ سال مذہب موحد اہلحدیث حلفا بیان کرتا ہوں کہ تخمینا تھیں یا اکتیس (۷۰۷﴾ سال کا گذرا ہو گا یعنی سمت ۱۹۱۷ میں جبکہ سن سترہ کا ایک مشہور قحط پڑا تھا ایک بزرگ گلاب شاہ نام جس نے مجھے توحید کا راہ سکھلایا اور جو باعث اپنے کمالات فقر کے بہت مشہور ہو گیا تھا اور اصل باشندہ ضلع لاہور کا تھا ہمارے گاؤں جمالپور میں آ رہا تھا اور ابتدا میں ایک فقیر سالک اور زاہد اور عابد تھا اور اسرار توحید اُس کے منہ سے نکلتے تھے لیکن آخر اس پر ایک ربودگی اور بیہوشی طاری ہو کر مجذوب ہو گیا اور بعض اوقات قبل از ظهور بعض غیب کی باتیں اس کی زبان پر جاری ہوتیں اور جس طرح وہ بیان کرتا آخر اسی طرح پوری ہو جاتیں۔ چنانچہ ایک دفعہ اُس نے سمت سترہ کے قحط سے پہلے ایک قحط شدید کے آنے کی پیشگوئی کی تھی اور پیش از وقوع مجھے بھی خبر دی تھی ۔ سو تھوڑے دنوں کے بعد سترہ کا قحط پڑ گیا تھا۔ اور ایک دفعہ اُس نے بتلایا تھا کہ موضع رام پور ریاست پٹیالہ تحصیل پائیلی کے قریب جہاں اب نہر چلتی ہے ہم نے وہاں نشان لگایا ہے کہ یہاں دریا چلے گا ۔ پھر بعد ایک مدت کے وہاں اُسی نشان کی جگہ پر نہر جاری ہو گئی جو در حقیقت دریا کی ہی ایک شاخ ہے۔ یہ پیشگوئی اُن کی سارے جمالپور میں ﴿۷۰۸﴾ مشہور ہے۔ ایسا ہی ایک دفعہ انہوں نے سمت سترہ کے قحط سے پہلے کہا تھا کہ اب بیو پاریوں کو