ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 478
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۸ ازالہ اوہام حصہ دوم اور اسی اُمت میں سے ایک کو مسیح ابن مریم بنا کر بھیجے گا سو وہ مسلمانوں میں سے ہی آوے گا ۔ جیسا کہ اسرائیلی ابن مریم بنی اسرائیل میں سے ہی آیا۔ ایسا ہی لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مسیح وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن ۷۰۱ کیا جائے گا لیکن وہ اس بے ادبی کو نہیں سمجھتے تھے کہ ایسے نالائق اور بے ادب کون آدمی ہوں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو کھو دیں گے۔ اور یہ کس قدر لغو حرکت ہے کہ رسول مقبول کی قبر کھودی جاوے اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائی جاویں بلکہ یہ معیت روحانی کی طرف اشارہ ہے ۔ اب ہ ہے۔ ایسا ہی بہت سی غلطیاں ہیں جو نکل رہی ہیں۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہو گا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوة نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے اور اگر چہ ہر یک کو رویا صحیحہ اور مکاشفات میں سے کسی قدر حصہ ہے مگر مخالفین کے دل میں اگر گمان اور شک ہو تو وہ مقابلہ کر کے آزما سکتے ہیں کہ جو کچھ اس عاجز کو رویا صالحہ اور مکاشفہ اور ۷۰۲ استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافرہ نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے وہ دوسروں کو تمام حال کے مسلمانوں میں سے ہرگز نہیں دیا گیا اور یہ ایک بڑا محک آزمائش ۔ تعالیٰ ہے کیونکہ آسمانی تائید کی مانند صادق کے صدق پر اور کوئی گواہ نہیں ۔ جو شخص خدا۔ کی طرف سے آتا ہے بے شک خدائے تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک خاص طور پر مقابلہ کے میدانوں میں اس کی دستگیری فرماتا ہے۔ چونکہ میں حق پر ہوں اور دیکھتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام