ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 375
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۵ ازالہ اوہام حصہ دوم رب نے رحمت کی راہ سے ایسا ہی ارادہ کیا ہے کہ کل معارف و دقائق الہیہ کا تیری بعثت مبارکہ پر ہی خاتمہ ہوا اور وہی کلام کل معارف حکمیہ کا جامع ہو جو تجھ پر نازل ہوا ہے اور یہ بات ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس برکت والی رات سے مراد ایک تو وہی معنے ہیں جو مشہور ہیں اور دوسری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کی رات ہے اور اس کا دامن قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے اور آیت فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَکیم میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تمام زمانہ جو قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت کے تحت میں ہے فیوض قرآن کریم سے بہت فائدہ اُٹھائے گا اور وہ تمام معارف الہیہ جو دنیا میں مخفی چلے آتے تھے اس زمانہ میں وقتا فوقتا ظہور پذیر ہوتے رہیں گے اور نیز آیت فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس زمانہ با برکت کے خواص میں سے یہ بھی ہوگا کہ معاش اور معاد کے کل علوم حکمیہ اپنے اعلیٰ درجہ کے کمالات کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے اور کوئی امر حکمت ایسا نہیں رہے گا جس کی تفصیل نہ کی جائے۔ پھر آگے فرمایا کہ خدا وہ خدا ۵۱۳ ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب اُسی نے پیدا کیا تا تم اسی صانع حقیقی پر یقین لاؤ اور شک کرنے کی کوئی وجہ نہ رہے۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں ۔ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تمہارا رب ہے اور تمہارے اُن باپ دادوں کا رب جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں بلکہ وہ تو شکوک و شبہات میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ان دلائل کی طرف انہیں کہاں نظر ہے ۔ پس تو اُس دن کا امیدوار رہ جس دن آسمان ایک کھلا کھلا دھواں لائے گا جس کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ عذاب دردناک ہے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا یہ عذاب ہم سے اٹھا۔ ہم ایمان لائے ۔ اس جگہ دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ۔ ظیم و شدید ہے جو سات برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں پڑا یہاں تک کہ لوگوں نے مُردے اور ہڈیاں کھائی تھیں جیسا کہ ابن مسعود کی حدیث میں مفصل اس کا بیان ہے لیکن آخری زمانہ کے لئے بھی جو ہمارا زمانہ ہے ا الدخان : ۵