ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 300
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۰ ازالہ اوہام حصہ اول سو خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہ الزام مسیح کے سر پر سے اُٹھاوے ۔ سواول اس نے اس بنیاد کو باطل ٹھہرایا جس بنیاد پر حضرت مسیح کا لعنتی ہونا نا بکار یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے دلوں میں سمجھ لیا تھا اور پھر بعد اس کے بتصریح یہ بھی ذکر کر دیا کہ مسیح نعوذ باللہ ملعون نہیں جو رفع سے روکا گیا ہے بلکہ عزت کے ساتھ اس کا رفع ہوا ہے۔ چونکہ مسیح ایک بے کس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسر کر کے چلا گیا اور یہودیوں نے اس کی ذلت کے لئے بہت ساغلو کیا ۔ اُس کی والدہ پر نا جائز تہمتیں لگائیں اور اس کو ملعون ٹھہرایا اور راستبازوں ۳۸۸﴾ کی طرح اُس کے رفع سے انکار کیا۔ اور نہ صرف یہودیوں نے بلکہ عیسائی بھی مؤخر الذکر خیال میں مبتلا ہو گئے اور کمینگی کی راہ سے اپنی نجات کا یہ حیلہ نکالا کہ ایک راستباز کو ملعون ٹھہرا دیں اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر مسیح کے ملعون ہونے پر ہی نجات موقوف ہے اور تبھی نجات ملتی ہے کہ مسیح جیسے ایک راستباز پاک روش خدائے تعالیٰ کے پیارے کو لعنتی ٹھہرایا جاوے تو حیف ہے ایسی نجات پر ۔ اس سے تو ہزار درجہ دوزخ بہتر ہے۔ غرض جب مسیح کے لئے دونوں فریق یہود و نصاری نے ایسے دور از ادب القاب روا ر کھے تو خدائے تعالیٰ کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس پاک روش کی عزت کو بغیر شہادت کے چھوڑ دیوے۔ سو اس نے جیسا کہ انجیل میں پہلے سے وعدہ دیا گیا تھا ہمارے سید و مولی ختم المرسلین کو مبعوث فرما کر مسیح کی عزت اور رفع کی قرآن کریم میں شہادت دی ۔ رفع کا لفظ قرآن کریم میں کئی جگہ واقع ہے ایک جگہ بلغم کے قصہ میں بھی ہے کہ ہم نے اس کا رفع چاہا مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا اور ایک ناکام نبی کی نسبت اس نے فرمایا وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا کے در حقیقت یہ بھی ایک ایسا نبی ہے جس کی رفعت سے لوگوں نے انکار کیا تھا۔ اور چونکہ اس عاجز کی بھی مسیح ۳۸۹) کی طرح ذلت کی گئی ہے کوئی کافر کہتا ہے اور کوئی ملحد اور کوئی بے ایمان نام رکھتا ہے اور فقیہ اور مولوی صلیب دینے کو بھی تیار ہیں جیسا کہ میاں عبدالحق اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اس شخص کے لئے مسلمانوں کو کچھ ہاتھ سے بھی کام لینا چاہیے لیکن پلاطوس سے زیادہ ا مریم : ۵۸