ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 259
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۹ ازالہ اوہام حصہ اول کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس ۔ اب بتلاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا ۳۱۳ اعجاز نمایاں ہے کسی تفسیر میں لکھے ہیں۔ ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارف قرآنیہ کا ظاہر کیا کہ اِنَّا اَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۔ لے کے صرف یہی معنے نہیں کہ ایک با برکت رات ہے جس میں قرآن شریف اترا بلکہ باوجود ان معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں اس ۳۱۴ آیت کے بطن میں دوسرے معنے بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔ اب فرمائیے کہ یہ تمام معارف حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ چند منٹ میں مر جاتے تھے کیونکہ بذریعہ عمل الترب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور ۳۱۲ پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی مگر جن کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہ جو میں نے مسمریز می طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اور اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الہام ہوا هذا هو الترب الذي لا يعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔ ورنہ خدائے تعالیٰ اپنی ہر یک صفت میں واحد لاشریک ہے اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ فرقان کریم کی آیات بینات میں اس قدر اس مضمون کی وَلَمْ تائید پائی جاتی ہے جو کسی پرمخفی نہیں جیسا کہ وہ عزا سمۂ فرماتا ہے الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ ﴿۳۱۳) يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا - وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ - وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيُوةً وَلَا نُشُورًا - - سورة الفرقان الجز و ۱۸ یعنی خدا وہ خدا ہے جو تمام زمین و آسمان کا اکیلا مالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں ۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اُس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اور اس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اور اور ایسے ایسے خدا مقرر کر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ اور ۳۱۴ مخلوق ہیں اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اور نہ موت اور زندگی اور جی اُٹھنے کے مالک ہیں القدر : ۲ ۲ الفرقان : ۴۳