ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 257

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۷ ازالہ اوہام حصہ اول اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت (۳۰۸) بے نصیب ہے و من لم يؤمن بذالك الاعجاز فوالله ما قدر القر آن حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما وقر الرسول حق توقيره - ۳۰۹ اے بندگان خدا ! یقیناً یا درکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعوی کرتا ہے اس ۳۰۹ کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ در حقیقت ان کا زندہ ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا در حقیقت یہ سب عمل العرب کی شاخیں ہیں ۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروص، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔ جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ ۳۰۸ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی و سہر وردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشاق گذرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین ویسار میں بٹھا کر صرف نظر سے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی ۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پر ہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی الیسع نبی کی طرح اس عمل العرب میں کمال رکھتے تھے ۳۰۹ گوالیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے کیونکہ السیع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں یعنی وہ دو چور جو سیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہر حال مسیح کی یہ تربی کار روائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ