ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 253

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۳ ازالہ اوہام حصہ اول ۲۹۹ نہیں بلکہ پندرہ ہوں گے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس حدیث کے مضمون کو حقیقت پر حمل کر بیٹھیں اور ناحق بیجا ضد کرنے سے مخالفوں سے ہنسی ہنسی کرائیں ۔ ہمارے لئے قرآن کی تعلیم سے یہ راہ کھلی ہے کہ ہم اس حدیث کو متشابہات میں داخل کریں اور فتنہ سے اپنے تئیں بچاویں لیکن اگر ہم علم میں ایسے راسخ کئے جاویں جو الہامی طور پر ہمیں وہ معقولی راہ دکھلائی جاوے جس سے لوگ مطمئن ہو سکتے ہیں تو پھر کچھ ۳۰۰ ضرورت نہیں کہ ہم ایسی آیت یا حدیث کو متشابہات میں داخل رکھیں بلکہ اُن معقولی معنوں کو جو الہام کے ذریعہ سے ظاہر ہوئے ہیں شکر کے ساتھ ہم قبول کر لیں گے ۔ کی طرح ہر جگہ حاضر و ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر خدائی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا وحدہ لاشریک ہونا باطل ہے۔ جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود خدا ہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی درحقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو خدائے تعالیٰ نے خدائی کی طاقتیں دے رکھی ہیں ۔ رب اعلیٰ و برتر تو وہی ہے اور یہ صرف چھوٹے چھوٹے خدا ہیں ۔ تعجب کہ یہ لوگ یا رسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منع کرتے ۳۰۰ ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو خدائی کا حصہ دار بنا رہے ہیں ۔ بھائیو! آپ لوگوں کا دراصل یہی مذہب ہے کہ خدائی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی صفت خالقیت و راز قیت و عالمیت و قادریت وغیرہ میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ و جدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو خدا کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ خدائی طاقتیں انہیں دے رکھی ہیں اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الہی ان کو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی ۔ اور ہر جگہ حاضر وناظر ہیں ۔ نذریں نیازیں لیتے ہیں اور مرادیں دیتے ہیں ۔ اب اگر کوئی طالب حق یہ سوال کرے کہ اگر ایسے عقائد سراسر باطل اور مشرکانہ ۳۰۱ خیالات ہیں تو ان آیات فرقانیہ کے صحیح معنے کیا ہیں جن میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مٹی کے پرندے بنا کر پھونک اُن میں مارتا تھا تو وہ باذن الہی پرندے ہو جاتے تھے۔ سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دوقسم کے ہوتے ہیں۔ (۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں