ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 251

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۱ ازالہ اوہام حصہ اول اس عذر کا جواب یہ ہے کہ اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعوی نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ بھی ﴿۲۹۵ آوے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔ مگر اے میرے دوست مجھے اس بات کے ماننے اور قبول کرنے سے معذور تصور فرمائیے کہ وہی مسیح ابن مریم جو فوت ہو چکا ہے اپنے خاکی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے اُترے گا۔ اسلام اگر چہ خدائے تعالیٰ کو قادر مطلق بیان فرماتا ہے اور فرمودۂ خدا اور رسول کو عقل پر فوقیت دیتا ہے مگر پھر بھی وہ عقل کو معطل اور بے کا ر ٹھہرانا نہیں چاہتا اور اگر صاف اور صریح طور پر کوئی امر خلاف عقل کسی الہامی کتاب میں واقع ہو اور ہم اس کے چاروں طرف نظر ڈال کر اس حقیقت تک پہنچ جائیں کہ دراصل یہ امر خلاف عقل ہے برتر از عقل نہیں تو ہمیں شریعت اور کتاب الہی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ ہم اس امر غیر معقول کو حقیقت پر حمل کر بیٹھیں بلکہ قرآن شریف میں ہمیں صاف تاکید فرمائی گئی ہے کہ آیات متشابہات یعنی جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہے اُن کے ظاہری معانی پر ہرگز زور نہیں دینا چاہیے کہ در حقیقت یہی مطلب اور مراد خدائے تعالیٰ کی ہے بلکہ اس پر ایمان لانا چاہیے اور اس اس کی اصل حقیقت کو ۲۹۶ حاشیہ بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم ۲۹۶ انواع و اقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعوی ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے ۔ کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح کے کروڑہا پرندے بنائے ہوئے ابتک موجود ہیں جو ہر طرف پرواز کرتے نظر آتے ہیں تو پھر مثیل مسیح بھی کسی پرندہ کا خالق ہونا چاہیے۔ ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنے کرنا کہ گویا خدائے تعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنی صفات خاصہ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہے ﴿۲۹۷