ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 234
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۴ ازالہ اوہام حصہ اول ۲۶۵﴾ جو ناک میں پہنچ کر دماغ کو معطر کر دیتی ہو باہر نکل آتی ہے اور فرشتے آسمان کے کناروں پر کہتے ہیں کہ ایک روح چلی آتی ہے جو بہت پاکیزہ اور خوشبو دار ہے۔ تب آسمان کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہوتا جو اس کے لئے کھولا نہ جائے اور کوئی فرشتہ آسمان کا نہیں ہوتا کہ اُس کے لئے دعا نہ کرے یہاں تک کہ وہ روح پا یہ عرش الہی تک پہنچ جاتی ہے تب خدائے تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے پھر میکائیل کو حکم ہوتا ہے کہ جہاں اور روحیں ہیں وہیں اس کو بھی لے جا۔ اب قرآن شریف کی اس آیت اور حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ روح مومن کی اُس کے فوت ہونے کے بعد بلا توقف آسمان پر پہنچائی جاتی ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے تو پھر قرآن شریف کی اس آیت کو کہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ل ہے یا اس آیت کو کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " ہے اس طرف کھینچنا کہ گویا حضرت عیسیٰ جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے تھے صریح تحکم اور زبردستی ہوگی کیونکہ جبکہ بر طبق روایت ابن عباس و سیاق و سباق کلام الہی متوفیک کے معنی یہی ہیں کہ میں ۲۶۶) تجھے ماروں گا تو پھر صاف ظاہر ہے جیسا کہ ابھی ہم بحوالہ کلام الہی لکھ چکے ہیں کہ موت کے بعد نیک بختوں کی روح ہے روح بلا توقف آسمان کی طرف جاتی ہے یہ تو نہیں کہ فرشتہ ملک الموت روح کو نکال کر کئی گھنٹہ تک وہیں کھڑا رہتا ہے۔ اب اگر ہم فرض کے طور پر وہب کی روایت کو قبول کر لیں کہ حضرت عیسیٰ تین گھنٹہ تک مرے رہے یا سات گھنٹہ تک مردہ پڑے رہے تو کیا ہم یہ بھی قبول کر سکتے ہیں کہ تین گھنٹہ تک یا سات گھنٹہ تک فرشتہ ملک الموت اُن کی روح اپنی مٹھی میں لے کر اُسی جگہ بیٹھا رہایا جہاں جہاں لاش کو لوگ لے جاتے رہے ساتھ پھرتا رہا اور آسمان کی طرف اس روح کو اُٹھا کر نہیں لے گیا ۔ ایسا وہم تو سراسر خلاف نص و حدیث اور مخالف تمام کتب الہامیہ ہے اور جبکہ ضروری طور پر یہی ماننا پڑا کہ ہر یک مومن کی روح مرنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ رافعک الی کے یہی معنے ہیں کہ جب حضرت عیسی فوت ہو چکے تو اُن کی روح آل عمران: ۲۵۶ النساء : ۱۵۹