ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 232

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۲ ازالہ اوہام حصہ اول کلام کو بغرض تائید مطلب هذا فتوحات مکیہ باب ۲۲۳ سے نقل کرتے ہیں اور وہ عبارت معہ ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔ غاية الوصلة ان يكون الشيء عين ما ظهر ولا يعرف كما رأيت ۲۶۲) رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد عانق ابن حزم المحدث فغاب احدهما في الآخر فلم نرالا واحداً وهو رسول الله صلعم فهذه غاية الوصلة وهو المعبر عنه بالا تحاد (فتوحات (مكية) یعنی نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہ وہ چیز ہو جائے جس میں وہ ظاہر ہو اور خود نظر نہ آوے جیسا کہ میں نے خواب میں آنحضرت کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد بن حزم محدث سے معانقہ کیا۔ پس ایک دوسرے میں غائب ہو گیا بجز ایک رسول اللہ صلعم کے نظر نہ آیا۔ پھر بعد اس کے مولوی صاحب موصوف اپنے اس بیان کی تائید میں نواب صدیق حسن مرحوم کی کتاب اتحاف النبلاء میں سے ایک عربی رباعی معہ ترجمہ نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ توهم واشینا بليل مزاره فهم ليسعى بيــنـنــا بــالتباعد فعانقته حتى اتحدنا تعانقا فلما اتانا مارأى غير واحد جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ہمارے بدگو ( رقیب) نے شب کو ہمارے پاس ہمارے معشوق کے آنے کا گمان کیا تو ہم میں جدائی ڈالنے میں کوشش کرنے لگا ۔ پس میں نے اپنے معشوق ۲۶۳ کو گلے سے لگا لیا۔ پھر وہ ( رقیب ) آیا تو اُس نے بجز مجھ ایک کے کسی کو نہ دیکھا۔ پھر یہ شعر فارسی نقل کیا ہے۔ جذبه شوق بحديست ميان من و تو که رقیب آمد و نه شناخت نشان من و تو اس کے بعد یہ جملہ دعا ئیہ لکھا ہے رزقنا الله من هذا الاتحاد في الدنيا والآخرة یعنی خدائے تعالیٰ ہم کو بھی ایسا ہی اتحاد دنیا اور آخرت میں نصیب کرے۔ پھر میں مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کی نسبت تئمہ کلام بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ گو احادیث اور فرقان اور انجیل کی رو سے