ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 230

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۰ ازالہ اوہام حصہ اول ذرا سوچ کر بتلا دیں کہ اگر اس آیت کریمہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو میں نے بیان کئے ہیں تو اور کیا معنے ہیں اور اگر یہ معنے صحیح نہیں ہیں تو پھر اللہ جل شانہ کیوں فرماتا ہے ۲۵۸) قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ، یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت رکھے اور تمہیں اپنا محبوب بنالیوے۔ اب سوچنا چا۔ چنا چاہیے کہ جس وقت انسان ایک محبوب کی پیروی سے خود بھی محبوب بن گیا تو کیا اس محبوب کا مثیل ہی ہو گیا یا ابھی غیر مثیل رہا۔ افسوس ! ہمارے پر کینه مخالف ذرا نہیں سوچتے کہ طالب مولی کے لئے یہی تو عمدہ اور اعلیٰ خواہش ہے جو اس کو مجاہدات کی طرف رغبت دیتی ہے اور یہی تو ایک زور آور انجن ہے جو تقویٰ اور طہارت اور اخلاص اور صدق اور صفا اور استقامت کے مراتب عالیہ کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہی تو وہ پیاس لگانے والی آگ ہے جس سے ظاہر و باطن سالک کا بھڑک اُٹھتا ہے اگر اس مقصد کے حصول سے پاس کلی : پاس کلی ہو تو پھر اس محبوب حقیقی - حقیقی کے سچے طالب جیتے ہی مر جائیں ہی مرجائیں ۔ آج تک جس قد را کابر متصوّفین گذرے ہیں اُن میں سے ایک کو بھی اس میں اختلاف نہیں کہ اس ۲۵۹) دین متین میں مثیل الانبیاء بننے کی راہ کھلی ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلعم روحانی اور ربانی علماء کے لئے لئے یہ یہ خو خوشخبری فرما گئے ہیں کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ کے کلمات طیبہ مندرجہ ذیل جو تذکرۃ الاولیاء میں حضرت فرید الدین عطار صاحب نے بھی لکھے ہیں اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی پائے جاتے ہیں اسی بناء پر ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ہی آدم ہوں میں ہی شیث ہوں میں ہی نوح ہوں میں ہی ابراہیم ہوں میں ہی موسیٰ ہوں میں ہی عیسی ہوں میں ہی محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم و علی اخوانه اجمعین اور اگر چہ انہیں کلمات کی وجہ سے حضرت بایزید بسطامی ستر مرتبہ کافر ٹھہرا کر بسطام سے جو اُن کے رہنے کی جگہ تھی شہر بدر کئے گئے اور میاں عبد الرحمن خلف مولوی ۲۶۰ محمد کی طرح اُن لوگوں نے بھی بایزید بسطامی کے کافر اور ملحد بنانے میں سخت غلو کیا آل عمران: ۳۲