ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 165
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۵ ازالہ اوہام حصہ اول انسان کے نوع میں پوشیدہ طور پر ودیعت رکھا گیا تھا وہ سب خارج میں جلوہ گر ہو جائے گا ۱۲۲ تب خدائے تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راستبازوں کو جو زمین کی چاروں طرفوں میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کرتے تھے ایک گروہ کی طرح اکٹھا کر دیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا تا ہر ایک گروہ اپنی کوششوں کے ثمرات کو دیکھ لیویں ﴿۱۲۳ تب آخر ہو جائے گی یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بنا ابھی سے ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ انت اشد مناسبة بعيسى ابن مريم واشبه الناس بهِ خُلُقًا و خَلْقًا و ۱۲۴ زمانا مگر یہ تاثیرات اس لیلۃ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی بلکہ بالا تصال کام کرتی ۱۲۵ رہیں گی جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہو لے جو خدائے تعالیٰ آسمان پر مقرر کر چکا ہے۔ مرزا گل محمد صاحب مرحوم کے عہد ریاست کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کے عہد ریاست میں جو اس عاجز کے دادا صاحب تھے ایک دفعہ ایک سخت انقلاب آگیا اور ان سکھوں کی بے ایمانی اور بدذاتی اور عہد شکنی کی وجہ سے جنہوں نے مخالفت کے بعد محض نفاق کے طور پر مصالحہ اختیار کر لیا تھا انواع اقسام کی مصیبتیں اُن پر نازل ہوئیں اور بجز قادیان اور چند دیہات کے تمام دیہات اُن کے قبضہ سے نکل گئے بالآخر سکھوں نے قادیان پر بھی قبضہ کر لیا اور دادا صاحب مرحوم معہ اپنے تمام لواحقین کے جلا وطن کئے گئے اُس روز سکھوں نے پانچ سو کے قریب قرآن شریف آگ سے جلا دیا اور بہت سی کتابیں چاک کر دیں اور مساجد میں سے بعض مسمار کیں بعض میں اپنے گھر بنائے ۱۳۱ اور بعض کو دھرم سالہ بنا کر قائم رکھا جواب تک موجود ہیں اس فتنہ کے وقت میں جس قدر فقراء و علماء وشرفا و نجباء قادیان میں موجود تھے سب نکل گئے اور مختلف بلاد وامصار میں جا کر آباد ہو گئے اور یہ جگہ ان شریروں اور یزیدی الطبع لوگوں سے پُر ہوگئی جن کے خیالات میں بجز بدی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں پھر انگریزی سلطنت کے عہد سے کچھ عرصہ پہلے یعنی ان دنوں میں جبکہ رنجیت سنگھ کا عام تسلط پنجاب پر ہو گیا تھا اس عاجز کے والد صاحب یعنی میرزاغلام مرتضی صاحب مرحوم دوباره اس قصبہ میں آکر آباد ہوئے اور پھر بھی سکھوں کی جو رو جفا کی نیش زنی ہوتی رہی اُن دنوں میں بقيه حاشيه