ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 163
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۳ ازالہ اوہام حصہ اول تیزیاں اور بشری عقل کی ہر قسم کی باریک بینیاں نمودار ہو جائیں گی اور تمام دفائن و خزائن علوم مخفیه و فنون مستورہ کے جو چھپے ہوئے چلے آتے تھے اُن سب پر انسان فتحیاب ہو جائے گا اور اپنی فکری اور عقلی تدبیروں کو ہر یک باب میں انتہا تک پہنچادے گا اور انسان کی تمام قوتیں جو نشاء انسانی میں محمر ہیں صد با طرح کی تحریکوں کی وجہ سے حرکت میں آجائیں گی ۱۱۷ اور فرشتے جو اس لیلۃ القدر میں مرد مصلح کے ساتھ آسمان سے اُترے ہوں گے ہر یک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں وہ ان فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرت کی تدبیروں میں وہ ید بیضا دکھلائیں گے کہ ایک مرد عارف متحیر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلی اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے ملیں؟ ۱۸ تب اُس روز ہر یک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں ایک گوشہ میں موجود ہے تو میں کوشش کرتا کہ تا وہی دہلی میں تخت نشین ہو جاتا اور خاندان مغلیہ تباہ ہونے ۱۲۷ سے بچ جاتا ۔ غرض مرزا صاحب مرحوم ایک مرد اولی العزم اور متقی اور غایت درجہ کے بیدار مغز اور اول درجہ کے بہادر تھے اگر اُس وقت مشیت الہی مسلمانوں کے مخالف نہ ہوتی تو بہت امید تھی کہ ایسا بہادر اور اولی العزم آدمی سکھوں کی بلند شورش سے پنجاب کا دامن پاک کر کے ایک وسیع سلطنت اسلام کی اس ملک میں قائم کر دیتا۔ جس حالت میں رنجیت سنگھ نے باوجود اپنی تھوڑی سی پدری ملکیت کے جو صرف نو گاؤں تھے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر پیر پھیلا لئے تھے جو پشاور سے لدھیانہ تک خالصہ ہی خالصہ نظر آتا تھا اور ہر جگہ ٹڈیوں کی طرح سکھوں کی ہی فوجیں دکھائی دیتی تھیں تو کیا ایسے شخص کے لئے یہ فتوحات قیاس سے بعید تھیں؟ جس کی گمشدہ ملکیت میں سے ابھی چوراسی یا پچاسی گاؤں باقی تھے اور ہزار کے قریب فوج کی جمعیت بھی تھی اور اپنی ذاتی شجاعت میں ایسے مشہور ۱۲۸ تھے کہ اُس وقت کی شہادتوں سے بہ بداہت ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں اُن کا کوئی نظیر نہ تھا لیکن چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہی چاہا تھا کہ مسلمانوں پر ان کی بے شمار غفلتوں کی وجہ سے تنبیہ نازل ہو اس لئے مرزا صاحب مرحوم اس ملک کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کامیاب نہ ہو سکے اور میرزا صاحب مرحوم کے حالات عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفین مذہب بھی ان کی نسبت ولایت کا گمان رکھتے تھے اور ان کے بعض خارق عادت امور عام طور پر دلوں میں نقش ہو گئے تھے بقیه حاشیه