ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 160

ازالہ اوہام حصہ اول ١٦٠ روحانی خزائن جلد ۳ دنیا میں پیدا ہو گا در حقیقت اسی آیت کو سورۃ الزلزال میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ سورۃ الزلزال سے پہلے سورۃ القدر نازل کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام لیلۃ القدر میں ہی نازل ہوتا ہے اور اس کا نبی لیلتہ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں ہی وہ فرشتے اُترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پُر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں ۔ پھر بعد اس سورۃ کے خدائے تعالیٰ نے سورۃ البینہ میں بطور نظیر کے بیان کیا کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ۔ یعنی جن سخت بلاؤں میں اہل کتاب اور مشرکین مبتلا تھے اُن سے نجات پانے کی کوئی منشاء ہے۔ اچھی طرح لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ بقيه حاشيه واضح ہو کہ اُن کا غذات او رات اور پرانی تحریرات سے کہ جو اکابر اس خاندان کے چھوڑ گئے ہیں ثابت ہوتا ہے کہ بابر بادشاہ کے وقت میں کہ جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مند الہی کے خاص سمر قند سے ایک جماعت کثیر کے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کر کے دہلی میں پہنچے اور دراصل یہ بات اُن کا غذات سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے ۔ لیکن یہ امر اکثر کا غذات کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ گو وہ ساتھ پہنچے ہوں یا کچھ دن پیچھے سے آئے ہوں مگر انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا خاص تعلق تھا جس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں سے شمار کئے گئے تھے چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات بطور جاگیر کے اُنہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے اور ان دیہات کے وسط میں ایک میدان میں انہوں نے قلعہ کے طور پر ایک قصبہ اپنی سکونت کے لئے آباد کیا جس کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا یہی اسلام پور ہے جو اب قادیان کے نام سے مشہور ہے ۔ اس قصبہ کے گردا گرد ایک فصیل تھی جس کی بلندی میں فٹ کے قریب ہو گی اور عرض اس قدر تھا کہ تین چھکڑے ایک دوسرے کے برابر اس پر چل سکتے تھے چار بڑے بڑ کے بُرج تھے۔ ا البينة : ٢ ۱۲۲ ۱۲۳