ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 154
روحانی خزائن جلد ۳ اولد ازالہ اوہام حصہ اول ۹۸) اور حضرت موسی کی روح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ ایسا ہی بغیر ایک ذرہ فرق کے حضرت عیسیٰ کی روح سے ملاقات ہونا بیان کیا ہے بلکہ حضرت موسیٰ کی روح کا کھلے کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنا مفضل طور پر لکھا ہے پس اس حدیث کو پڑھ کر کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ اگر حضرت مسیح جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے 99 گئے ہیں تو پھر ایسا ہی حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء بھی اس جسم کے ساتھ اٹھائے گئے ہوں گے کیونکہ معراج کی رات میں وہ سب نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رنگ میں آسمانوں پر نظر آئے ہیں یہ نہیں کہ کوئی خاص وردی یا کوئی خاص علامت مجسم اٹھائے جانے کی حضرت مسیح میں دیکھی ہو اور دوسرے نبیوں میں وہ علامت نہ پائی گئی ہو۔ تمام حدیثوں کے پڑھنے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی ۱۰۹ بقيه حاشيه كفروا وصدوا عن سبيل الله ردّ عليهم رجل من فارس شكر الله سعيه خذوا التوحيد التوحيد يا ابناء الفارس ۔ اس الہام میں صریح اور صاف طور پر بیان کیا گیا ہے کہ وہ فارسی الاصل جس کا دوسرا نام حارث بھی ہے بڑی خصوصیت یہ رکھتا ہے کہ اس کا ایمان نہایت درجہ کا قوی ہے اگر ایمان ثریا میں بھی ہوتا تو وہ مرد و ہیں اس کو پالیتا خدا اس کا شکر گزار ہے کہ اس نے دین اسلام کے منکروں کے سب الزامات و شبہات کو رد کیا اور حجت کو پورا کر دیا تو حید کو پکڑو تو حید کو پکڑ والے ابنائے فارس یعنی توحید کی راہیں صاف کرو اور توحید سکھلاؤ اور توحید جو دنیا سے گری جاتی اور گم ہوتی جاتی ہے اس کو پکڑ لو کہ یہی سب سے مقدم ہے اور اسی کو لوگ بھول گئے اور اس جگہ ابن کی جگہ جو ابناء کا لفظ اختیار کیا گیا حالانکہ مخاطب صرف ایک شخص ہے یعنی یہ عاجز ۔ یہ بطور اعزاز کے حضرت باری تعالیٰ کی طرف سے ہے جیسا کہ بعض حدیثوں میں بجائے اس حدیث کے کہ لو كان الايمان معلقًا بالثريا لناله رجل من فارس ہے رجال من فارس