ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 647
بھی نہ دیکھ پایا صفحہ ۲۵۰۔خطا و صواب میں سوچ سے کام لینے والے بے ہودہ گو حاضر <mark><mark>جو</mark></mark>اب سے اچھے ہیں صفحہ ۲۹۴۔اے خدا میری جان تیرے بھیدوں پر قربان کہ تو ان پڑھوں کو فہم اور ذہن رسا بخشتا ہے۔تیری اس دنیا میں میرے جیسا اُمی کہاں ہے میرا تو نشوونما ہی جہالتوں کے <mark>در</mark>میان ہوا ہے۔میں ایک حقیر کیڑا تھا تو نے مجھے بشر بنا دیا میں تو بے باپ مسیح سے بھی زیادہ عجیب ہوں صفحہ ۳۲۰۔جب تو <mark>دل</mark> والوں کی کوئی بات سنے تو مت کہہ اٹھ کہ غلط ہے۔اے عزیز ! تو بات نہیں سمجھ سکتا غلطی تو یہی ہے صفحہ ۳۷۲۔جس کام کے لئے کمر ہمت کس لی جائے اگر (اس میں ) کانٹے بھی ہوں تو وہ گلدستہ بن جائیں <mark>گے</mark> صفحہ ۳۸۸۔اس ابن مریم میں خدائی نہ تھی کیونکہ موت وفوت سے اُسے رہائی حاصل نہ تھی۔اس نے اپنے تئیں شرک اور دوئی سے آزاد کر لیا تھا ُتو بھی ایسا کر۔ابن مریم ُتوبھی بن جائے گا صفحہ ۴۱۷۔) اس کا فرد(یہودی بھی بن سکتا ہے اور مسیح بھی صفحہ ۵۱۲۔احمد کی امت اپنے و<mark><mark>جو</mark></mark>د میں دو مخالف باتیں مخ<mark>فی</mark> رکھتی ہے) اس کا فرد(مسیح بھی بن سکتا ہے اور یہودی بھی۔ایک گروہ تو بدفطرت انسانوں کے لئے بھی جائے ننگ وعار ہے اور دوسرا گروہ ا<mark>نبی</mark>اء کا جانشین ہے صفحہ ۵۱۳۔خدا تعالیٰ کی <mark>طرف</mark> سے یہ عہد ہو چکا ہے) یعنی مردے واپس نہیں آیا کرتے(تو آیت اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ پر غور کر