ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 610
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۰ ازالہ اوہام حصہ دوم بقيه حاشيه فمعناه كل من كان في صفتهما لقوله تعالى الا عبادك منهم المخلصين ۹۲۸ یعنی علامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعن کیا ہے اور اس کی صحت میں اس کو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہوسکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ مریم اور ابن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو اُن کی صفت پر ہوں ۔ ماسوا اس کے حسب آیت فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ اور بحسب آیت کریمہ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايْتِهِ يُؤْمِنُونَ کے ہر یک حدیث جو صریح آیت کے معارض پڑے رد کرنے کے لائق ہے۔ اور آخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا۔ جیسا کہ بخاری کے صفحہ ۷۵۱ میں یہ حدیث درج ہے کہ اوصى بكتاب الله ۔ اسی وصیت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کر گئے ۔ پھر اسی بخاری کے صفحہ ۱۰۸۰ میں یہ حدیث ہے و هذا الكتب الذى هدى الله به رسولکم فخذوا به تهتدوا یعنی اسی قرآن سے تمہارے رسول نے ہدایت پائی ہے سو تم بھی اسی کو اپنا رہنما پکڑ و تا تم ہدایت پاؤ ۔ پھر بخاری کے صفحہ ۲۵۰ میں یہ حدیث ہے ما عندنا شيء الا كتاب الله یعنی کتاب اللہ کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چیز نہیں جس سے بالاستقلال تمسک پکڑیں۔ پھر بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میں یہ حدیث ہے حسبکم القرآن یعنی تمہیں ۹۲۹ قرآن کافی ہے۔ پھر بخاری میں یہ بھی حدیث ہے حسبنا كتب الله ما كان من شرط ليس في كتب الله فهو باطل قضاء الله احق دیکھو صفحه ۳۴۸ ۳۷۷، ۲۹۰، ۔ اور یہی اصول محکم محکم ائمہ کبار کا ہے۔ چنانچہ تلویح میں لکھا ہے انما یرد خبر الواحد من معارضة الكتب ۔ پس جس صورت میں خبر واحد جس میں احادیث بخاری و مسلم بھی داخل ہیں بحالت معارضہ کتاب اللہ رد کرنے کے لائق ہے تو پھر کیا یہ ایمانداری ہے کہ اگر کسی آیت کا کسی حدیث سے تعارض معلوم ہو تو آیت کے زیر وزبر کرنے کی فکر میں ہو جائیں اور حدیث کی تاویل کی طرف رخ بھی نہ کریں۔ الاعراف : ١٨٦ الجاثية :