ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 605 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 605

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۵ ازالہ اوہام حصہ دوم لفظ موت اور امانت کے جو متعدد المعنی ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور ۹۲۱ ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے ۔ تَوَفَّی کا لفظ کہیں دکھا وے مثلاً یہ کہ توفاه الله مائة عام ثم بعثہ تو ایسے شخص کو بھی بلا توقف ہزار روپیہ نقد دیا جاوے گا ۔ المشتهر خاکسار غلام احمد از لودھیانه محله اقبال گنج نوٹ۔ فوت کے بعد زندہ کرنے کے متعلق جس قدر قرآن کریم میں آیتیں ہیں کوئی اُن میں سے حقیقی موت پر محمول نہیں ہے۔ اور حقیقی موت کے ماننے سے نہ صرف اس جگہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ آیتیں قرآن کریم کی اُن سولہ آیتوں اور اُن تمام حدیثوں سے مخالف ٹھہرتی ہیں جن میں یہ لکھا ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعد پھر دنیا میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ علاوہ اس کے یہ فساد بھی لازم آتا ہے کہ جان کندن اور حساب قبر اور رفع الى السماء جو صرف ایک دفعہ ہونا چاہیے تھا دو دفعہ ماننا پڑتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اب شخص فوت شدہ حساب قبر کے بعد قیامت میں اٹھے گا کذب صریح ٹھہرتا ہے۔ اور اگر ان آیتوں میں حقیقی موت مراد نہ لیں تو کوئی نقص لازم نہیں آتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ موت کے مشابہ ایک مدت تک کسی پر کوئی حالت بے ہوشی وارد کر کے پھر اس کو زندہ کر دیوے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جب تک خدا تعالی کسی جاندار پر حقیقی موت وارد نہ کرے وہ مر نہیں سکتا۔ اگر چہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے۔ اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوْتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ - منه البقرة : ١٠٧ ال عمران : ۱۴۶