ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 602
روحانی خزائن جلد ۳ ٦٠٢ ازالہ اوہام حصہ دوم اور ایسے شخص کا جلیں بھی ان روحانی منافع وفوائد سے محروم نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ یہاں تک ۹۱۷﴾ اس کو قوت یقین مل جاتی ہے کہ گویا خدائے عز و جل کو دیکھ لیتا ہے۔ اگر سید صاحب اس بات کا کسی اخبار میں اعلان دیں کہ ہمیں اس بات پر ایمان نہیں کہ یہ مرتبہ خدا تعالیٰ کی ہم کلامی کا انسان کو مل سکتا ہے اور ان تمام شہادتوں سے انکار ظاہر کریں کہ جو روحانی تجربہ کاروں رسولوں اور نبیوں اور ولیوں نے پیش کی ہیں تو اس عاجز پر فرض ہو گا کہ اسی فوق العادت طریق سے جس کی بنیاد خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں نے ڈالی ہے۔ آزمائش کے لئے سید صاحب کو بذریعہ کسی اخبار کے کھلے کھلے طور پر دعوت کرے۔ اور اگر سید صاحب طالب حق ہوں گے تو اس روحانی دعوت کو بسر و چشم قبول کر لیں گے۔ والسلام علی من اتبع الهدی۔ تَوَفَّی کے لفظ کی نسبت اور نیز الدجال کے بارے میں ہزار روپیہ کا اشتہار تمام مسلمانوں پر واضح ہو کہ کمال صفائی سے قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ صلعم سے ثابت ہو گیا ہے کہ در حقیقت که در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیه السلام بر طبق آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ (۹۸) وَفِيهَا تَمُوتُونَ ، زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی سولہ آیتوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لئے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لئے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔ باایں ہمہ بعض علماء وقت کو اس بات پر سخت غلو ہے کہ مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور نہایت بے باکی اور شوخی کی راہ سے کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے وفات دینا نہیں ہے بلکہ الاعراف : ٢٦