ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 578 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 578

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۸ ازالہ اوہام حصہ دوم خالی نہیں جس سے معلوم ہوا کہ دال میں کالا ہے۔ اور ضرور آپ نے اس قسم کی خواب دیکھی ہے گو اس میں ٹانگ خشک ہو یا ہاتھ خشک ہو یا اور امور زائدہ ساتھ لگے ہوئے ہوں ۔ حضرت آپ نے یہ خواب ضرور دیکھی ہے آپ کا یہ پہلو دار فقرہ ہی دلالت کر رہا ہے کہ ضرور آپ نے ایسی خواب دیکھی ہے۔ بھلا ذرہ قسم تو کھاویں کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا اور میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ آپ کبھی قسم نہ کھائیں گے کیونکہ یہ دعوی سراسر دروغ ہے۔ آپ اگر سچے ہیں تو لاہور میں ایک جلسہ مقرر کر کے حاضرین کے سامنے قسم کھالیں کہ میں نے کچھ نہیں دیکھا اور حاضرین میں وہ لوگ بھی ہوں گے جن کو ایسی روایت سے تعلق ہے۔ جس وقت آپ مجھے قسم کھانے کے لئے اطلاع دیں گے میں حاضر ہو جاؤں گا تا آپ کی ایمانداری اور صداقت شعاری دیکھ لوں کہ کہاں تک آپ کو کذب اور افتراء سے پر ہیز ہے۔ تب تسلی رکھیں کہ ساری حقیقت کھل جائے گی اور آپ کی راستگوئی کا آپ کے شاگردوں پر بھی نمونہ ظاہ ظاہر ہو جائے گا۔ اور جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی چند خوا میں تحریر کی ہیں اگر وہ صحیح بھی ہیں تب بھی اُن کی ۸۷۷ وہ تعبیر نہیں جو آپ نے سمجھی ہے بلکہ بسا اوقات انسان دوسرے کو دیکھتا ہے اور اس سے مراد اپنا نفس ہی ہوتا ہے معبرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مثلاً ا ہے کہ اگر کوئی شخص مثلاً کسی نبی کو خواب میں نا بینا یا مجزوم یا کسی حیوان کی شکل میں دیکھے تو اس کی یہ تعبیر ہو گی کہ یہ دیکھنے والا خود ان آفتوں میں مبتلا ہے۔ مثلاً اگر اُس نے کسی مقدس آدمی کو یک چشم دیکھا ہے تو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ دین میں وہ آپ ہی ناقص ہے۔ اور اگر مجزوم دیکھا ہے تو اس کی یہ تعبیر ہو گی کہ وہ آپ ہی فساد میں پڑا ہوا ہے۔ اور اگر اُس نے نبی کی مخی صورت دیکھی ہے تو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ وہ آپ ہی اپنے دین میں سخی صورت رکھتا ہے۔ کیونکہ مقدس لوگ آئینہ کی طرح ہوتے ہیں ۔ انسان جو کچھ اُن کی شکل اور وضع میں اپنی رویا میں فرق دیکھتا ہے۔ درحقیت وہ عیب اُس کے اپنے وجود میں ہی ہوتا ہے۔ اور جس بد عملی میں اُس کو مشاہدہ کرتا ہے درحقیقت اس کا آپ ہی مرتکب ہوتا ہے۔ تعبیر رویت ابرار میں یہ اصول محکم ہے اس کو یا د رکھنا چاہیے۔ ایک مدت کی