ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 567
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۶۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اکتیس جولائی ۱۸۹۱ء ک ( بمقام لو دھیانہ ) مباحثہ اور ۸۵۷ حضرت مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کا واقعات کے برخلاف اشتہار مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا اشتہار مورخہ یکم اگست ۱۸۹۱ء میری نظر سے گذرا جس کے دیکھنے سے مجھے سخت تعجب ہوا کہ مولوی صاحب نے کیسی بے باکی سے اپنے اس اشتہار کو سراسر افتر آت اور اکاذیب سے بھر دیا ہے۔ وہ نہایت چالاکی سے شرائط شکنی کا الزام میرے ذمہ لگاتے ہیں لیکن اصل حقیقت جس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے یہ ہے کہ وہ ایک دن بھی ﴿۸۵۸ شرائط مقررہ پر قائم نہیں رہ سکے۔ چنانچہ وہ اکثر بر خلاف شرط قرار یافتہ کے اول مضمون مباحثہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر پھر دوسرے سے لکھوا کر اور جا بجا کم و بیش کر کے تحریر ثانی کو دیتے رہے ہیں اور اگر اُن کی اوّل تحریر اور ثانی کا مقابلہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوگا کہ تحریر ثانی میں بہت کچھ تصرف ہے جو طریق دیانت اور امانت سے بالکل بعید تھا یہ اُن کی پہلی عہد شکنی ہے جو اخیر تک اُن سے ظہور میں آتی گئی ۔ پھر دوسری عہد شکنی یہ کہ انہوں نے نے پا پہلے ہی سے یہ عادت ٹھہرالی کہ سنانے کے وقت تحریر سے تجاوز کر کے بہت کچھ وعظ کے طور پر صرف زبانی کہتے رہے جس کا کوئی نام و نشان تحریر میں نہیں تھا ۔ جب انہوں نے اپنی وہ تحریر جو کے صفحہ کی تھی سنائی تو بکلی شرطوں کو توڑ کر زبانی وعظ شروع کر دیا۔ اور ان زبانی کلمات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں حدیثوں کے تعارض کو ایک دم میں رفع کر سکتا ہوں ۔ ابھی رفع کر سکتا ہوں اور ساتھ اس کے بہت سی تیزی اور خلاف تہذیب اور چالا کی کی باتیں تھیں جن میں بار بار یہ جتلانا انہیں منظور تھا کہ یہ شخص نافہم ہے۔ نادان ہے۔ جاہل ہے۔ لیکن اس عاجز نے اُن کی اِن تمام دل آزار باتوں پر صبر کیا اور اُن کی ﴿۸۵۹