ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 558

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۸ ازالہ اوہام حصہ دوم ۸۴۴ ۸۴۶ وقت مسلمان ہو چکا تھا اور بوجہ مشرف باسلام ہونے کے اس لائق تھا کہ اس کے بیان کو عزت اور اعتبار کی نظر سے دیکھا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب وهذا آخر ما اردنا في هذا الباب والحمد لله اولا و اخرا و اليه المرجع والمآب بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی گذارش ضروری بخدمت اُن صاحبوں کے جو بیعت کرنے کے لئے مستعد ہیں اے اخوان مومنین ایدكم الله بروح منه - آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز ۸۴۵ سے خالصاً لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وار واضح ہو کہ بالقائے رب کریم و جلیل ( جس کا ارادہ ہے کہ مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلافات اور غل اور حقد اور نزاع اور فساد اور کینہ اور بغض سے جس نے اُن کو بے برکت و نکما و کمزور کر دیا ہے نجات دے کر فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا کا مصداق بنا دے ) مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں ح تاریخ ھذا سے جو ۴ مارچ ۱۸۸۹ء ہے ۲۵ مارچ تک یہ عاجز لودہیا نہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لود ہی نہ میں ۲۰ تاریخ کے بد ولود ہیا نہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و وقت ہو تو ۲۵ مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قاد ا چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہو جاوے مگر جس مدعا کے لئے بیعت ہے یعنی حقیقی تقوی اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کے لئے کوشش کرنا ۔ اس مدعا کو خوب یا درکھے۔ اور اس وہم میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اگر تقویٰ اور سچا مسلمان بنا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے بلکہ یا د رکھنا چاہیے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اول حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور برکت توجہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اس کا جز بن جائے } ۸۴۵ آل عمران : ۱۰۴