ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 556
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۶ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ جوان اونٹنیاں جو بار برداری اور سواری کا بخوبی کام دیتی ہیں چھوڑ دی جائیں گی پھر ان پر سواری نہیں کی جائے گی۔ اب واضح ہو کہ یہ ریل گاڑی کی طرف اشارہ ہے جس نے تمام سواریوں سے قریبا نوع انسان کو فارغ کر دیا ہے اور جو تمام دنیا کے ستر ہزار میل میں پھر گئی ہے اور ہندوستان کے سولہ ہزار میل میں ۔ چونکہ عرب میں اعلیٰ درجہ کی سواری جو ایک عربی کے تمام گھر کو اُٹھا سکتی ہے اونٹنی کی سواری ہے جو بار برداری اور مسافت کے طے کرنے میں تمام سواریوں اسے بڑھ کر ہے اس لئے آنحضرت صلعم نے اسی کی طرف اشارہ کیا تا اعلیٰ کے ذکر ۸۴۱ کرنے سے ادنی خود اس کے ضمن میں آجائے ۔ پس فرمایا کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں یہ سب سواریاں بے قدر ہو جائیں گی اور کوئی اُن کی طرف التفات نہیں کرے گا یعنی ایک نئی سواری دنیا میں پیدا ہو جائے گی جو دوسری تمام سواریوں کی وقعت کھو دے گی ۔ اب اگر عموماً تمام لوگ اس ریل گاڑی پر سوار نہ ہوں تو یہ پیشگوئی ناقص رہتی ہے۔ اس جگہ یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلم کی حدیث سے جو فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے ثابت ہوتا ہے جو دجال ہندوستان سے نکلنے والا ہے جس کا گدھا دخان کے زور سے چلے گا جیسے بادل جس کے پیچھے ہوا ہوتی ہے اور ایسا ہی مسیح بھی اسی ملک میں اول ظہور کرے گا گو بعد میں مسافر کے طور پر کسی اور ملک دمشق وغیرہ میں نزول کرے ۔ نزول کا لفظ جو دمشق کے ساتھ لگایا گیا ہے خود دلالت کر رہا ہے جو دمشق میں اس کا آنا مسافرانہ طور پر ہوگا اور اصل ظہور کسی اور ملک میں اور ظاہر ہے کہ جس جگہ دجال ظہور کرے اُسی جگہ سیح کا آنا ضروری ہے کیونکہ مسیح دجال کے لئے لئے ؟ بھیجا گیا ہے اور یہ بھی اسی اسی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال خود نہیں نکلے گا بلکہ اس کا کوئی مثیل نکلے گا اور حدیث کے لفظ یہ ہیں الا انه في بحر الشام او بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ماهو و أوْمى ۸۳۳) بيده الى المشرق رواه مسلم یعنی خبر دار ہو کیا دجال بحر شام میں ہے یا بحرین میں نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا۔ نہیں وہ یعنی وہ نہیں نکلے گا بلکہ اس کا ہے