ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 534
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۳۴ ازالہ اوہام حصہ دوم ۸۰۲ (۲۳) حبّى فى الله صاحبزادہ سراج الحق صاحب ابواللمعان محمد سراج الحق جمالی نعمانی ابن شاہ حبیب الرحمن ساکن سرساوه ضلع سہارنپور از اولا د قطب الاقطاب شیخ جمال الدین احمد ہانسوی اکا بر مخلصین اس عاجز سے ہیں۔ صاف باطن یک رنگ اور الہی کاموں میں جوش رکھنے والے اور اعلائے کلمہ حق کے لئے بدل و جان ساعی و سرگرم ہیں ۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے خدائے تعالیٰ نے جو ان کے لئے تقریب پیدا کی وہ ایک دلچسپ حال ہے جو ان کے ایک خط سے ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ میں اس زمانہ کو ایک آخری زمانہ سمجھ کر اور علماء اور فقراء سے ظہور حضرت مسیح ابن مریم موعود اور حضرت مہدی کی بشارتیں سن کر ہمیشہ دعا کیا کرتا تھا کہ خدا وند کریم مجھ کو ان میں سے کسی کی زیارت کرادے خواہ حالت جوانی میں ہی یا ضعیفی میں ۔ سو جب میری دعا ئیں انتہاء کو پہنچیں تو اُن کا یہ اثر ہوا کہ مجھے عالم رویا میں وقتا فوقتا مقصد مذکورہ بالا کے لئے کچھ کچھ بشارتیں معلوم ہونے لگیں ۔ چنانچہ ایک دفعہ ۸۰۳ میں سفر کی حالت میں شہر جیند میں تھا تو عالم رویا میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک مسجد میں وضو کر رہا ہوں اور اس مسجد کے متصل ایک کوچہ ہے وہاں سے ہر قسم کے آدمی ہندو مسلمان نصاری آتے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں سے آتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم حضرت رسول مقبول کی خدمت میں گئے تھے۔ تب میں نے بھی جلد وضو کر کے اس کو چہ کی راہ لی ۔ ایک مکان میں دیکھا کہ کثرت سے آدمی موجود ہیں اور حضرت رسول مقبول خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں۔ سفید پوشاک پہنے ہوئے اور ایک شخص دوزانوان کے سامنے با ادب بیٹھا ہے۔ میں نے پوچھنا چاہا کہ مرشد کے قدم چومنے میں علماء اور فقراء کو اختلاف ہے۔ اصل کیا بات ہے۔ تب ایک شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تھا خود بخود بول اُٹھا کہ نہیں نہیں ۔ اس وقت میں بے تکلف اُٹھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جا بیٹھا۔ تب حضرت نبی کریم نے مجھ کو دیکھا اور اپنا داہنا پائے مبارک