ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 436
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۶ ازالہ اوہام حصہ دوم حضرت عزیر اور حضرت مسیح ہیں اور اُن کا بہشت میں داخل ہو جانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے اُن کی موت بھی بپا یہ ثبوت پہنچتی ہے۔ (۲۸) اٹھائیسویں آیت أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ لى الجزء نمبر ۵ ۔ یعنی جس جگہ تم ہو اُسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگر چہ تم ؟ بڑے مرتفع برجوں میں بود و باش از باش اختیار کرو۔ اس آیت سے بھی صہ سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ تفور موت اور لوازم موت ہر یک جگہ جسم خاکی پر وارد ہو جاتے ہیں۔ یہی سنت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طور پر کوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایسا کلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا ۔ پس بلا شبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض و آفات منجره الی الموت ۲۲۳) تک پہنچاتا ہے۔ اس سے کوئی نفس مخلوق خالی نہیں ۔ (۲۹) انتیسویں آیت مَا اتْكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ! یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔ سو پہلے وہ حدیث سنو جو مشکوۃ میں ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ یہ ہے۔ وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اعمار امتى ما بين الستين الى السبعين واقلهم من يجوز ذالك رواه الترمذي وابن ماجه۔ یعنی اکثر عمریں میری اُمت کی ساٹھ سے ستر برس تک ہوں گی ۔ اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں ۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس اُمت کے شمار میں ہی آگئے ہیں ۔ پھر اتنا فرق کیونکر ممکن ہے کہ اور لوگ ستر برس تک مشکل سے پہنچیں اور ۱۲۴ اُن کا یہ حال ہو کہ دو ہزار کے قریب ان کی زندگی کے برس گزر گئے اور اب تک مرنے میں ا النساء : ٧٩ الحشر : ٨