ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 394
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۴ نہیں ہوں گی ۔ دیکھو صفحہ نمبر ۰۷ امکتوبات امام ربانی مطبوعہ مطبع احمدی دہلی ۔ ازالہ اوہام حصہ دوم سواب اے بھائیو! برائے خدا دھکہ اور زبردستی مت کرو ضرور تھا کہ میں ایسی باتیں پیش کرتا جن کے سمجھنے میں تمہیں غلطی لگی ہوئی تھی ۔ اگر تم پہلے ہی راہ صواب پر ہوتے تو میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ میں کہہ چکا ہوں کہ میں اس اُمت کی اصلاح کے لئے ابن مریم ہو کر آیا ہوں اور ایسا ہی آیا ہوں کہ جیسے حضرت مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔ میں اسی وجہ سے تو اُن کا مثیل ہوں کہ مجھے وہی اور اُسی طرز کا کام سپر د ہوا ہے جیسا کہ انہیں سپرد ہوا تھا۔ مسیح نے ظہور فرما کر یہودیوں کو بہت سی غلطیوں اور بے بنیاد ۵۴۷ خیالات سے رہائی دی تھی۔ منجملہ اس کے ایک یہ بھی تھا کہ یہودی لوگ ایلیا نبی کے دوبارہ دنیا میں آنے کی ایسی ہی اُمید باندھے بیٹھے تھے جیسے آج کل مسلمان مسیح ابن مریم رسول الله کے دوبارہ آنے کی امید باندھے بیٹھے ہیں۔ سوسیح نے یہ کہہ کر کہ ایلیا نبی اب آسمان سے اتر نہیں سکتا زکریا کا بیٹا بیٹی ایلیا ہے جس نے قبول کرنا ہے کرے اس پرانی غلطی کو دور کیا اور یہودیوں کی زبان سے اپنے تئیں ملحد اور کتابوں سے پھرا ہوا کہلایا مگر جو سچ تھا وہ ظاہر کر دیا۔ یہی حال اُس کے مثیل کا بھی ہوا اور حضرت مسیح کی طرح اس کو بھی ملحد کا خطاب دیا گیا ۔ کیا یہ اعلیٰ درجہ کی مماثلت نہیں ۔ اس بار یک نکتہ کو یا درکھو کہ مسلمانوں کو یہ کیوں خوشخبری دی گئی کہ تم میں مسیح ابن مریم نازل ہوگا ۔ دراصل اس میں بھید یہ ہے کہ ہمارے سید و مولی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ امت محمد یہ مثیل اُمت بنی اسرائیل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں یہ اُمت ایسی ہی بگڑ جائے گی جیسے یہودی اپنے آخری وقت میں بگڑ گئے تھے اور حقیقی نیکی اور حقیقی سچائی اور حقیقی ایمانداری اُن میں سے اُٹھ گئی تھی اور نکھے اور بے اصل جھگڑے اُن میں برپا ہو گئے تھے اور ایمانی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی اور فرمایا کہ تم تمام وہی کام کرو گے جو یہودیوں نے کئے ۔ یہاں تک