ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 370
روحانی خزائن جلد ۳ ٣٧٠ ازالہ اوہام حصہ دوم مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن زمینی علوم وفنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غرا بجالاتے ہیں۔ سو وہ چونکہ در حقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں ۔ اور ۵۰۳ آسمانی روح کامل طور پر اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے دآبۃ الارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اور نہ کامل وفاداری۔ اس لئے چہرہ اُن کا انسانوں کا ہے مگر بعض اعضاء ان کے بعض دوسر۔ دوسرے حیوانات سے سے مشابہ م ہیں ۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُونَ کے یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدر قریب آجائے گا تو ہم ایک گروہ دابتہ الارض کا زمین میں سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہوگا ۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طور پر مشارق مغارب میں پھیلائیں گے اور اس جگہ اَخْرَجْنَا کا لفظ اس وجہ سے اختیار کیا کہ آخری زمانہ میں اُن کا خروج ہوگا نہ حدوث یعنی حتمی طور پر یا کم مقدار کے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ ۵۰۴ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ پیدا ہوں گے اور حمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہو جائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے ۔ واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرا یہ میں یا جوج ماجوج کے لئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنوں کا ما حصل خروج ہی ہے اور دجال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف ا النمل : ٨٣