ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 244

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۴ ازالہ اوہام حصہ اول کھلے کھلے ہیں۔ اول ایلیا نبی کا آسمان سے اُترنا کہ آخر وہ اُترے تو کس طرح اُترے۔ دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال ہونا اور قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی کے اس کا جواب ملنا۔ اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا یہ اس بات کے سمجھنے کے لئے قرائن قویہ اور دلائل کا فیہ نہیں کہ آسمان سے اُترنے سے مراد حقیقی اور واقعی طور پر اُتر نا نہیں بلکہ مثالی اور ظلی طور پر اترنا مراد ہے۔ ابتدائے عالم آفرینش سے آج تک اسی طور سے مقدس لوگ آسمان سے اُترتے رہے ہیں اور مثالی طور پر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ آدم ثانی آیا ہے اور یہ یوسف ثانی اور یہ ابراہیم ثانی لیکن آدم زاد کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان سے اُتر نا اب تک کسی نے مشاہدہ نہیں کیا۔ پس وہ امر جو اصول نظام عالم کے برخلاف اور قانون قدرت کے مبائن و مخالف اور تجارب ۲۸۳ موجودہ و مشہودہ کا ضد پڑا ہے اس کے ماننے کے لئے صرف ضعیف اور متناقض اور رکیک روایتوں سے کام نہیں چل سکتا سو یہ امید مت رکھو کہ سچ مچ اور در حقیقت تمام دنیا کو حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اگر اسی شرط سے اس پیشگوئی پر ایمان لانا ہے تو پھر حقیقت معلوم ، وہ اُتر چکے تو تم ایمان لا چکے ایسا نہ ہو کہ کسی غبارہ ( بیلون ) پر چڑھنے والے اور پھر تمہارے سامنے اُترنے والے کے دھوکہ میں آجاؤ۔ سو ہوشیار رہنا آئندہ اس اپنے جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے اُترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔ یہ قاعدہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو شخص سچ کو قبول نہیں کرتا پھر دوسرے وقت میں اس کو جھوٹ قبول کرنا پڑتا ہے۔ جن بے سعادت اور بد بخت لوگوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کیا تھا اُنہیں نے مسیلمہ کذاب کو قبول کر لیا حتی کہ چھ سات ہفتہ کے اندر ہی ایک لاکھ سے زیادہ اس پر ایمان لے آئے۔ سو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور الگ الگ گوشوں میں بیٹھ کر فکر کرو کہ اب تک سنت اور عادت الہی کس طرح پر چلی آئی ہے۔ اور یہ بھی سوچ لو کہ صحیح حدیثوں ۲۸۳ میں آسمان سے اترنے کا بھی کہیں ذکر نہیں اور صرف نزل یا ینزل کا لفظ آسمان سے اترنے پر بنی اسرائیل : ۹۴