ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 233

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۳ ازالہ اوہام حصہ اول مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی فرقان حمید میں رافعک التی کا لفظ بھی تو موجود ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہو کر پھر آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ آسمان کا تو کہیں اس جگہ ذکر بھی نہیں اس اس ۔ کے معنے تو صرف اس قدر ہیں کہ میں اپنی طرف تجھے اُٹھالوں گا اور ظاہر ہے کہ جو نیک آدمی مرتا ہے اُسی کی طرف روحانی طور پر اٹھایا جاتا ہے کیا خدائے تعالیٰ دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے جہاں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کی روح ہے اور نیز جس حالت میں قرآن شریف اور حدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بلا شبہ فوت ہو گئے تھے تو پھر اس ثبوت کے بعد رفع سے مراد جسم کے ساتھ اُٹھایا جانا کمال درجہ کی غلطی ہے بلکہ صریح اور بدیہی طور پر سیاق و سباق قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت عیسی کے فوت ہونے کے بعد اُن کی روح ۲۶۴ آسمان کی طرف اُٹھائی گئی۔ وجہ یہ کہ قرآن شریف میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ ہر یک مومن جو فوت ہوتا ہے تو اس کی روح خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور بہشت میں داخل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے :۔ يَأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ۔ فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي اے وہ نفس جو خدائے تعالیٰ سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف چلا آ ۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں اندر آ ۔ اس جگہ صاحب تفسیر معالم اس آیت کی تفسیر کر کے اپنی کتاب کے صفحہ ۹۷۵ میں لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بندہ مومن وفات پانے پر ہوتا ہے تو اس کی طرف اللہ جلشانه دو فرشتے بھیجتا ہے اور اُن کے ساتھ کچھ بہشت کا تحفہ بھی بھیجتا ہے اور وہ فرشتے آکر اس کی روح کو کہتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ تو روح اور ریحان اور اپنے رب کی طرف جو تجھ سے راضی ہے نکل آ۔ تب وہ روح مشک کی اس خوشبو کی طرح جو بہت لطیف اور خوش کرنے والی ہو الفجر: ۲۸ تا ۳۱