ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 139

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۹ ازالہ اوہام حصہ اول بقیه حاشیه درست کرے۔ اس کے جواب میں ہر چند حضرت مسیح نے بہت زور دے کر انہیں کہا کہ وہ ایکیا ﴿۷﴾ جو آنے والا تھا یہی یحیی زکریا کا بیٹا ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا لیکن یہودیوں نے مسیح کے اس قول کو ہرگز قبول نہیں کیا بلکہ خیال کیا کہ یہ شخص توریت کی پیشگوئیوں میں الحاد اور تحریف کر رہا ہے اور اپنے مرشد کو ایک عظمت دینے کے لئے ظاہری معنے کو کھینچ تان کر کچھ کا کچھ بنا رہا ہے سو ظاہر پرستی کی شامت نے یہودیوں کو حقیقت نہی سے محروم رکھا اور مجرد ﴿۷۷﴾ الفاظ پر زور مارنے اور استعارہ کو حقیقت سمجھنے کی وجہ سے ابدی لعنتوں کا ذخیرہ انہیں ملا قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اُتارا اور سچائی کے ساتھ اُترا اور ایک دن وعدہ اللہ کا پورا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا۔ اب ۷۴ چونکہ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رُو سے دمشق سے مشابہت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر پیشگوئی بیان کی گئی ہو گی کیونکہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا نہیں پایا جاتا اور یہ الہام جو براہین احمدیہ میں بھی چھپ چکا ہے بصراحت و بآواز بلند ظاہر کر رہا ہے کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں یا احادیث نبویہ میں بعد پیشگوئی ضرور موجود ہے اور چونکہ موجود نہیں تو بجز اس کے اور کس طرف خیال جا سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے قادیان کا نام قرآن شریف یا احادیث نبویہ میں کسی اور پیرا یہ میں ضرور لکھا ہوگا اور اب جو ایک نئے الہام سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدائے تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اُس پہلے الہام کے معنے بھی اس سے کھل گئے گویا یہ فقرہ جو اللہ جل شانہ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے ﴿۵﴾ دل پر القا کیا ہے کہ انا انزلناه قريبًا من القاديان اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قريبا من دمشق بطرف شرقي عند المنارة البيضاء ۔ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے منارہ کے پاس۔ پس یہ فقرہ الہام الہی کا کہ کان وعد الله مفعولا اس تاویل سے پوری پوری تطبیق کھا کر یہ پیشگوئی واقعی طور پر پوری ہو جاتی ہے اس عبارت تک یہ عاجز پہنچا تھا کہ یہ الہام ہوا قل لو كان الامر من عند غير الله لوجدتم |