ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 136
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۶ ازالہ اوہام حصہ اول بغض اور کینہ تک نوبت پہنچتی ہے جس قدر دنیا میں ایسے نبی یا ایسے رسول آئے جن کی نسبت ۷۰ پہلی کتابوں میں پیشگوئیاں موجود تھیں اُن کے سخت منکر اور اشد دشمن وہی لوگ ہوئے ہیں کہ جو پیشگوئیوں کے الفاظ کو ان کی ظاہری صورت پر دیکھنا چاہتے تھے۔ مثلاً ایلیا نبی کا آسمان سے اُترنا اور خلق اللہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں آنا بائبل میں اس طرح پر لکھا ہے کہ ایلیا نبی ا جو آسمان پر اٹھایا گیا پھر دوبارہ وہی نبی دنیا میں آئے گا۔ ان ظاہر الفاظ پر یہودیوں نے سخت نچہ مارا ہوا ہے اور باوجود یکہ حضرت مسیح جیسے ایک بزرگوار نبی نے صاف صاف گواہی ٦٨ بقيه حاشيه بیماروں ہی کی طرف آنا چاہیے اس لئے ضرور تھا کہ مسیح ایسے لوگوں میں ہی نازل ہو۔ غرض مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ نے مسیح کے اُترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دمشق پائیہ تخت یزید ہو چکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے وہ دمشق ہی ہے اور یزیدیوں کو ان یہودیوں سے بہت مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے ایسا ہی حضرت امام حسین کو بھی اپنی مظلومانہ زندگی کی رو سے حضرت مسیح سے غایت درجہ کی مماثلت ہے پس مسیح کا دمشق میں اُتر نا صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی مثیل مسیح جو حسین سے بھی بوجہ مشابہت ان دونوں بزرگوں کی مماثلت رکھتا ہے یزیدیوں کی تنبیہ اور ملزم کرنے کے لئے جو مثیل یہود ہیں اُترے گا اور ظاہر ہے کہ یزیدی الطبع لوگ یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ دراصل یہودی ہیں اس لئے دمشق کا لفظ صاف طور پر بیان کر رہا ہے کہ مسیح جو اُترنے والا ہے وہ بھی دراصل مسیح نہیں ہے بلکہ جیسا کہ یزیدی لوگ مثیل یہود ہیں ایسا ہی مسیح جو اُترنے والا ہے وہ بھی مثیل مسیح ہے اور حسینی الفطرت ہے یہ نکتہ ایک نہایت لطیف نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے صاف طور پر کھل جاتا ہے کہ دمشق کا لفظ محض استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں