اتمام الحجّة — Page 53
روحانی خزائن جلد ۸ ۵۳ نور الحق الحصة الأولى محمد حسين، وقوله إنه نِعْمَ الرجل ويستحق التحسين، فما نفهم اور کہا کہ یہ شخص اچھا آدمی اور قابل تحسین ہے ۔ سو ہم اس بات کا بھید نہیں سمجھتے اور ہم نہایت سر هذا الأمر ونتعجب غاية التعجب، كيف أثنى عليه الرجل الذي متعجب ہیں کہ کس طرح محمد حسین کی ایسے شخص نے تعریف کی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا يسبّ رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يرضى عن مؤمن الذي ہے اور کسی ایسے مومن سے راضی نہیں جو محب رسول اللہ ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے يحب رسول الله، و يشتم نبينا وسيدنا صلى الله عليه وسلم (۳۹) کلموں کے ساتھ گالیاں نکالتا ہے جس سے مسلمانوں کے دل کانپ جاتے ہیں اور ہم تعریف سے بكلمات ترتجف منها قلوب المسلمين۔ وما ننكر هذا الثناء ، لعل انکار نہیں کرتے شاید شیخ بٹالوی کرشٹانوں کی نظر میں ایسا ہی ہوا اور شاید وہ کوئی ایسا کلمہ بول اٹھا البطالوى يكون عند المتنصرين هكذا ، ولعله نطق بكلمة سرت ہے جو دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا معلوم ہوا لیکن ہم مناسب نہیں دیکھتے جو اس بارے أعداء رسول الله، ولكنا ما نرى أن نتكلم في هذا ولا نطول الكلام میں کلام کریں اور اس امر میں ہم کلام کو طول دینا نہیں چاہتے اور ہر یک اپنے قول سے پکڑا فيه، وكل أحد يؤخذ بقوله، والله يرى عباده الصالحين والطالحين۔ جائے گا اور خدا تعالیٰ نیک بختوں اور بدبختوں کو دیکھ رہا ہے ۔ وأما قول هذا الواشى وزعمه كأني أريد ملكوتا في الأرض أو اور اس نکتہ چین کا یہ قول اور یہ گمان کہ گویا میں دنیا کی بادشاہت چاہتا ہوں یا اپنی قوم میں امیر بننے إمارة في القوم، فإن هي إلا افتراء مبين۔ ونشهد كل من يسمع أنا لسنا کی مجھے خواہش ہے سو یہ باتیں کھلا کھلا افترا ہے۔ اور ہم ہر ایک کو جو سننے والا ہے گواہ کرتے ہیں جو ہم دنیا کی طالبي ملكوت الأرض، ولا نريد إمارة هذه الدنيا وزينتها الفانية، إن نريد إلا بادشاہت کے طالب نہیں اور نہ ہم دنیا کی امیری کو چاہتے ہیں اور نہ ہم اس دارفانی کی زینت کے خواہشمند ہیں ہم صرف