اتمام الحجّة — Page 39
روحانی خزائن جلد ۸ ۳۹ نور الحق الحصة الأولى الدنيا إلى حظيرة قدسه، وأعطانى ما أعطانى، وجعلني من الملهمين نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور المحدثين۔ فما كان عندى من مال الدنيا وخيلها وأفراسها، غير أني محدثوں میں سے کر دیا۔ سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ أعطيت جياد الأ الأقلام ورزقت جواهر الكلام، وأعطيتُ من نور يؤمنني عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے العثار، ويبين لي الآثار۔ فهذه الدولة الإلهية السماوية قد أغنتنى، لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے پس اس الہی اور آسمانی دولت نے مجھے وجبرت عيلتي وأضاء تنى ونوّرت ليلتي، وأدخلتني في المنعمين۔ غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں فقصدت أن أعين الدولة البرطانية بهذا المال وإن لم يكن لي من میں داخل کیا سو میں نے چاہا کہ اس مال کے ساتھ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کروں اگرچہ الدراهم والخيل والبغال، وما كنت من المتمولين۔ میرے پاس روپیہ اور گھوڑے اور خچریں تو نہیں اور نہ میں مالدار ہوں ۔ فقمت لإمدادها بقلمي ويدى، وكان الله في مددى، وعاهدت الله سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے تعالى من ذلك العهد أن لا أؤلف كتابًا مبسوطًا من بعد إلا وأذكر فيه ذكر (٢٩) خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا ذکر إحسانات قيصرة الهند وذكر مننِها التي وجب شكرها على المسلمين۔ نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔ ومع ذلك كان فى خاطرى أن أدعو القيصرة المكرمة إلى الإسلام اور باوجود اس کے میرے دل میں یہ بھی تھا کہ میں قیصرہ مکرمہ کو دعوت اسلام کروں