اتمام الحجّة — Page 408
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۰۸ سر الخلافة فلما توفیتنی کہا۔ میں بھی فلما تو فیتنی کہوں گا ۔ دوسرے ابن عباس سے توفی کے لفظ کے معنے مارنا ہے۔ تیسرے امام بخاری کی شہادت جو اس کی عملی کارروائی سے ظاہر ہو رہی ہے۔ اب سوچ کر دیکھو کہ کیا ہم نے حدیث اور قرآن کو چھوڑا یا ہمارے مخالفوں نے۔ کیا اُنہوں نے بھی توفی کے معنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی صحابی سے ثابت کئے جیسا کہ ہم نے کئے ہیں اور پھر بھی ہم اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر ہمارے مخالف اس ثبوت کے مقابل پر جو توفی کی نسبت ہم نے پیش کیا اب بھی کوئی دوسرا ثبوت پیش کریں یعنی توفی کے معنوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور حدیث ہم کو دکھلاویں اور اس کے ساتھ کسی اور صحابی کی طرف سے بھی توفی کے معنی تائیدی طور پر پیش کریں اور بخاری جیسے کسی امام حدیث کی بھی ایسی ہی شہادت توفی کے معنوں کے بارہ میں پیش کر دیں تو ہم اس کو قبول کر لیں گے مگر یہ کیسی چالا کی ہے کہ خود تو حدیث اور قرآن کو چھوڑ دیں اور الٹا ہم پر الزام دیں کہ یہ فرقہ قرآن اور حدیث سے باہر ہو گیا ہے۔ اے مخالف مولو یو خدا تم پر رحم کرے ذرہ غور سے توجہ کروتا تمہیں معلوم ہو کہ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحار رت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے مقام متنازعہ فیہ میں توفی کے معنی بجز مارنے کے اور کچھ بھی ثابت نہیں ہوئے اور جو شخص اس ثابت شدہ معنی کو چھوڑتا ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر بالرائے کرتا ہے کیونکہ حدیث کی رو سے بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفی آیت متنازعہ فیہ میں منقول نہیں ۔ اسی وجہ سے شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنی تفسیر فوز الکبیر میں جو صرف آثار نبوی اور اقوال صحابہ کے التزام سے کی گئی ہے متوفیک کے معنی صرف ممیتک لکھے ہیں۔ اگر ان کو کوئی مخالف قول ملتا تو ضرور وہ او کے لفظ سے وہ معنے بھی بیان کر جاتے ۔ اب ہمارے مخالفوں کو شرم کرنا چاہیئے کہ کیوں وہ نصوص صریحہ کو صریح چھوڑ بیٹھے ہیں ۔ پس اے بے باک لو گو خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ کیا تم نے ایک دن مرنا نہیں۔ اور نزول کے لفظ پر آپ لوگ ناز نہ کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کا کچھ فیصلہ نہیں فرمایا کہ یہ نزول کن معنوں سے نزول ہے۔ کیونکہ نزول کئی قسم کے ہوا کرتے ہیں اور