اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 512

اتمام الحجّة — Page 138

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۳۸ نور الحق الحصة الأولى واتباع الهوى وبتأويلات بـعـيـدة ومـكـائــد عُظمى، و آذى قلوب ہوا پرستی کی وجہ سے تاویل کی ہے اور تاویلات بعیدہ اور فریبوں سے کچھ کا کچھ بنایا ہے اور مومنوں کے المؤمنين، وكذلك ترك الحياء ، ووَدَّعَ الأرْعِواء ، وحسب أفضل دل کو دکھ دیا ہے۔ اسی طرح اس نے حیا کو ترک کیا اور شرم کو رخصت کیا اور افضل الرسل کی نسبت یہ گمان الرسل كالمجنون، وتباعد عن الحق تباعُد الضب من النون، وعادى کیا کہ نعوذ باللہ ان کو جن کا آسیب تھا۔ اور حق سے ایسا دور جا پڑا جیسا کہ سوسمار جو خشک زمین میں رہتی ہے مچھلی سے جو المصلحين اللامين۔ واعترض على فصاحة صحف الله القرآن وبلاغة پانی میں رہتی ہے دور رہتی ہے اور نیک کاموں کے حامی مصلحوں کی دشمنی اختیار کی اور قرآن شریف کی بلاغت حبل الله الفرقان ، ظلما وزورا، ليرضى قوما بورًا، مع أنه كان من فصاحت پر اعتراض کیا تا ان باتوں سے ایک ہلاک شدہ قوم کو خوش کرے حالانکہ یہ شخص جاہل الجاهلين العمين۔ ووالله إنه جهول لا يعلم لسان العرب وطرق بيانه، اور اندھوں کی طرح ہے اور بخدا یہ شخص سراسر نادان اور زبان عرب سے کچھ بھی واقف نہیں اور سوا زبان درازی وليس فيه جوهر سوى حصائد لسانه، ولأجل ذلك لا يوجد في كتبه کے اس میں کچھ بھی جو ہر نہیں اس لئے اس کی کتابوں میں بغیر گالیاں اور بکواس کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ تو شيء من غير سبّه وهذيانه، وما وسعه كتمان الحق وتخطئة الأولى اس سے نہ ہو سکا کہ حق کو پوشیدہ اور اس میں کچھ نقص ثابت کرے پس وہ لاچار ہو کر ١٠٥ الأحق، فعدا كالعدا إلى التوهين۔ وما قرأنا كتابًا أغيظ من كتبه، وما دشمنوں کی طرح توہین کی طرف دوڑا اور ہم نے کوئی ایسی کتاب نہیں پڑھی جو اس کی کتاب سے رأينا عبابًا أكثرَ مِن عَبَبِ كذبه، وما سمعنا سبا أكبر من سبّه، ولا خَبًّا زیادہ غصہ دلانے والی ہو اور نہ کوئی سیلاب دیکھا جو اس کے جھوٹ سے زیادہ ہو اور اس کی گالیوں جیسی کسی کی كخبه، فنأوى إلى الله من جُبِّه وهو خير الناصرين۔ ونعوذ به گالیاں نہیں سنیں اور اس کے فریبوں جیسا کسی میں فریب نہ دیکھا۔ پس اس کے فتنہ سے ہم خدا تعالیٰ کی طرف پناہ لے جاتے ہیں