اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 512

اتمام الحجّة — Page 130

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۳۰ نور الحق الحصة الأولى فارباً بدينك عند رؤية وجههم واقنع بشوك من جنى بستانهم پس جب تو ان کو ملے تو اپنے دین کی نگرانی رکھ اور ان کے باغ کے پھل سے بیزار ہو کر کانٹے پر قناعت کر الموت خير للفتى من خبزهم فاصبر ولا تجنح إلى تهتانهم جوانمرد کے لئے مرنا ان کی روٹی سے بہتر ہے پس صبر کر اور ان کی ایک ساعت کے مینہہ کی طرف مت جھک ونضارة الدنيا تزول بطرفة فاقنع ولا تنظر إلى أفنانهم اور دنیا کی تازگی ایک دم میں دور ہو جاتی ہے سو قناعت کر اور ان کی شاخوں کی طرف نظر مت کر النار تسقط كالصواعق عندهم فتجاف يا مغرور عن أحضانهم آگ ان کے پاس بجلی کی طرح گر رہی ہے پس ان کے کناروں سے اے دھوکا کھانے والے ایک طرف ہو جا ۹۸) أين المفر من القضاء إذا دنا إلا إلى رَبِّ مُزيل قنانهم کہاں بھاگیں آگئی صرف خدا تعالیٰ کی پناہ ہے جو ان کے ٹیلوں کو دور کرے گا يسبون جهالا برقة لفظهم يُصبون قلب الخلق من إحسانهم | جاہلوں کو اپنی نرمی سے غلام بنا لیتے ہیں اور اپنے احسانوں سے خلقت کے دل اپنی طرف کھینچتے ہیں فلذا يُحِبُّ مزوّر أديارهم من شحه ميلا إلى مرجانهم اسی لئے ایک مکار ان کے گر جاؤں سے پیار کرتا ہے اپنے لالچ سے ان کے موتی کی خواہش سے ولو انتقدت جموعهم في ديرهم لوجدت سقطا شيخهم كعوانهم اور اگر تو ان کے گر جاؤں میں ان کی جماعتوں کو پرکھے تو ان کے بڑھے کو ایسا ہی ردی پائیگا جیسا کہ ان کے درمیانی عمر والے کو ما الفرق بين المشركين وبينهم بل هم بنوا قصرا على بنيانهم ان میں اور مشرکین میں فرق کیا ہے بلکہ انہوں نے تو مشرکوں کی بنیاد کو ایک محل بنا دیا تقدیر سے جب يهوى إليهم كلُّ نكس فاسق ليبيـت شـبـعـانـا بـلـحـم جفانهم ہر یک ضعیف فاسق اُن کی طرف گرتا ہے تا ان کے پیالوں کے گوشت سے پیٹ بھر کے رات گزارے في قلبنا وجع وشوك دعابة من نَـخُـزهم خبثا وطول لسانهم ہمارے دل میں ایک درد اور ان کے ٹھٹھوں کی وجہ سے ایک کانٹا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زبان درازی اور خبث سے ہمارے دل کو خستہ کیا