اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 512

اتمام الحجّة — Page 120

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۲۰ نور الحق الحصة الاولى منهم خبيث مفسد متفاحش أُخبرتُ عنه وليتنى لم أخبر ان میں سے ایک خبیث مفسد بدگو دشنام وہ ہے مجھے اس کی اطلاع دی گئی ہے کاش کہ نہ دی جاتی یعنی اس کا وجود ہی نہ ہوتا (۸۹) غول يسبّ نبينا خير الورى لُكَع وليــس بـعـالم متبحر ایک شیطان ہے جو ہمارے نبی افضل المخلوقات کو گالیاں دیتا ہے سفلہ نادان فرومایہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ کوئی عالم متجر حقائق کی تہ تک پہنچنے والا ہو يا غُول بادية الضلالة والهوى تهذى هوى من غير عين تبصر اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان تو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں قطعت قلب المسلمين جميعهم كم صارم لك يا عبيط وخنجر تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اے دروغگو جنگجو ہمیں ی تو بتلا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور خنجر ہیں إنا تصبرنا على إيذائكم والنفس صارخة ولم تتصبر ہم نے تو تمہارے دکھ دینے پر تکلف صبر کیا مگر جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کر سکتی إنا نرى فتنا تذيب قلوبنا إنا نرى صورا تهول بمنظر ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں جاء وا كمفترس بناب داعس دحــــــا كـكـلـب نـابـح متشذّر وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز کرتا اور کے ساتھ آئے حملہ کرنے کے لئے اپنی دم اکٹھی کر لیتا ہے كانوا ذيابًا ثم وجدوا سَخُلةً في البر منفردًا أسير تحشر وہ تو بھیڑیئے تھے سو انہوں نے جنگل میں ایک اکیلا بره پایا جو ماندگی کا مارا ہوا تھا وترى بطون المفسدين كأنها قرب بما نالوا كمال تعجر اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ مشکیں ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں حاذت مطاياهم على أعناقنا حتى تكـــســرنـا كعظم أنخر انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہو گئے فاض العيون من العيون كأنها ماء جـرى مـن عـنـدم مـتـعـصـر چشمے جاری ہو گئے گویا کہ وہ دم الاخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑ نے کے وقت چک رہا ہے آنکھوں سے