اتمام الحجّة — Page 110
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۰ نور الحق الحصة الأولى فاذهبوا ســارعين مبادرين إلى بيوتكم، لتعطوا أجر قنوتكم، سو اپنے گھروں کی طرف جلدی کر کے دوڑ و تا کہ تم کو اس فرمانبرداری کا اجر ملے اور میرے پاس وأتوني بما كان عندكم من أثارة مال بقى من زوال، من نوع حليةٍ من وہ سب مال لے آؤ جو از قسم زیور چاندی اور سونے کے تمہارے گھروں میں باقی رہ گیا ہو اور اپنے ہمسائیوں اور ذهب كان أو فضة، أو حلى جيرانكم وخلانكم، ولا تتركوا شيئا منها، دوستوں کے بھی زیور لے آؤ اور اپنے گھروں میں کچھ نہ چھوڑو اور پھر جلد واپس آ جاؤ۔ وارجعوا مستعجلين۔ وإنى أقرأ عليها كلمات كرفية، وأعكف على اور میں ان زیوروں پر ایک منتر پڑھوں گا اور چند گھنٹے وہی عمل کرتا رہوں گا تب هذا العمل إلى بضع ساعة، فتهيج في الحلى ثورة مَزِيَّة، وكلُّ حِلية زیوروں میں ایک جوش بڑھنے کا پیدا ہوگا اور ہریک زیور پھولے گا اور بڑھے گا اور ان کا بڑھنا صاف تربو وتنمو، والزيادات فيها تبدو ، حتى تكون الحلى مئة أمثالها، معلوم ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ زیور سو گنا ہو جائے گا۔ اور اس پر کامل وتنزل عليها بركات بكمالها وتعجب الناظرين۔ برکتیں نازل ہوں گی اور دیکھنے والے تعجب کریں گے۔ ولا تعجبوا لهذا الحديث، فإن فيه سر كسر التثليث، فلا اور اس عمل سے کچھ تعجب مت کرو کیونکہ یہ بھی ایک ایسا ہی بھید ہے جیسا کہ تثلیث کا بھید سوتم تسألوني عن دلائل كفلسفيين۔ العمل عجيب، والوقت قريب فلسفیوں کی طرح اس کے دلائل مت پوچھو۔ عمل عجیب ہے اور وقت قریب ہے اور تم وتكونون من بعد قومًا متنعمين۔ فاغتروا بقول الكاذب المكار، بعد اس کے بڑے مالدار ہو جاؤ گے پس وہ لوگ اس فریبی کی بات پر دھوکا کھا گئے وحسبوا هذا العمل كالتثليث من الأسرار، بما لكزهم حمار الجهل کیونکہ جہالت کا گدھا ان کو ایسی لات مار چکا تھا جو کاٹنے والی تھی