اتمام الحجّة — Page 102
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۰۲ نور الحق الحصة الأولى وقال لا تقولوا لي صالحا ، ثم يجعلونه شريك البارئ ويحسبونه | اس نے کہا کہ مجھے نیک مت کہو پھر یہ لوگ اس کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو رب العالمين، ويقولون ما يقولون ولا يخافون يوم الدين۔ ويظنون رب العالمین سمجھتے ہیں اور جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں اور قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ۔ اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ أن المسيح صلب ولعن لأجل معاصيهم وأخذ لإنجائهم وعُذب مسیح ان کے گناہوں کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے ماخوذ اور معذب ہوا لتخليصهم، وأن الخلق أحفظ الأب بذنوبهم، وكان الأب فظا غليظ اور سے غصہ دلایا اور باپ خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں القلب سريع الغضب، بعيدا عن الحلم والكرم، مغتاظا كالحرق سخت دل سريع الغضب تھا حلم اور کرم اس میں نہیں تھا المضطرم، فأراد أن يُدخلهم في النار ، فقام الابن ترحما على بلکہ غصے سے آگ کی طرح بھڑکا ہوا تھا سو اس نے چاہا کہ خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بدکاروں پر رحم الفجار، وكان حليما رحيما كالأبرار، فمنع الأب من قهره وزيادته، کر کے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا پس اس نے اپنے باپ کو قہر اور فما امتنع وما رجع من إرادته، فقال الابن يا أَبَتِ إن كنتَ أزمعت زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا سو بیٹے نے کہا کہ اے باپ اگر تیرا یہی ارادہ تعذيب الناس وإهلاكهم بالفأس، ولا تمتنع ولا تغفر، ولا ترحم ولا ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور کسی طرح تو ان کو نہیں بخشتا اور نہ تزدجر، فها أنا أحمل أوزارهم وأقبل ما أبارَهم، فاغفر لهم وافعل بي رحم کرتا ہے سو میں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سو ان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب ما تريد، إن كان قليلا أو يزيد۔ فرضى الأب على أن يصلب دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی ہو گیا اور اس کے حکم سے بیٹا پھانسی دیا گیا