اتمام الحجّة — Page 83
روحانی خزائن جلد ۸ ۸۳ نور الحق الحصة الأولى وسيلة الفلاح والكذب من آثار الطلاح؛ وفي التزام الحق نباهة نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی کی علامت ہے اور حق کے اختیار کرنے میں نیک نامی اور وفي اختيار الزور عاهة، فإياكم وطرق الكذابين۔ فأشار الله في هذا جھوٹ کے اختیار کرنے میں آفت ہے سو تم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے أن علماء النصارى هم الدجالون المفسدون أعداء الحق وأهله۔ اس طرف اشارہ کیا کہ نصاریٰ کے علماء در حقیقت دجال اور مفسد ہیں اور حق اور حق پرستوں کے دشمن ہیں نسوا ظلمة الرمس فلا يذكرون ما ثُمَّ، وحب الشهوات فيهم عَمَّ قبر کی تاریکی کو بھلا دیا سو وہ اس خوف کو جو اس جگہ ہے یاد نہیں کرتے اور نفسانی شہوتوں کی محبت ان میں وتم وغاب أثر الدين۔ پھیل گئی اور کمال تک پہنچ گئی اور دین کا نشان گم ہو گیا۔ وأُشرِبَ حسّى ونَبَّأني حدسي أنهم لا يمتنعون ولا ينتهون حتى اور میری دانش اور میری فراست یہ خبر دیتی ہے کہ یہ کرسٹان تو عیسائی فساد سے باز نہیں آئیں گے يروا مثل سنن الله التي خلت من قبل، ويروا أبا غمرة، الذي يُضرم في جب تک خدا تعالیٰ کے ان قوانین قدیمہ کو نہ دیکھ لیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور جب تک ایسی بھوک کو نہ دیکھ لیں جو الأحشاء الجمرة، ويكونوا كجريح نُوِّبَ متألمين۔ فحاصل الكلام اندر کو جلاتی ہے اور جب تک ایسے دردناک نہ ہو جائیں جیسا کہ کوئی حوادث کا مارا ہوتا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ أنهم الدجال المعهود وأنا المسيح الموعود۔ وهذا فيصلة اتفق عليها یہی لوگ دجال معہود ہیں اور میں مسیح موعود ہوں اور یہ وہ فیصلہ ہے جس پر قرآن اور القرآن والإنجيل، وأكدها الرب الجليل، فما لكم لا تقبلون فيصلةً اتفق انجیل دونوں اتفاق رکھتے ہیں اور اس کو موکد طور پر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے پس کیا وجہ کہ تم ایسے فیصلہ کو عليها حكمين عدلين۔ أتفرّون من الأمر الواضح وتعرضون عرضكم قبول نہیں کرتے جس پر دو عادل حاکموں نے اتفاق کیا ہے کیا تم ایک کھلے کھلے امر سے گریز کرتے اور اپنی آبرو کو سهو، والصحيح حكمان“ (الناشر)