استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 494

استفتاء — Page 340

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب بڑھتے ہیں اور ان کا قومی مجمع عزت اور علم اور وقار نا قومی مجمع عزت اور علم اور وقار کا رنگ پکڑتا جاتا ہے اسی قدران کے نیک فطرت لوگ اپنی پاک زندگی اور نیک چلنی میں زیادہ ناموری حاصل کرتے ہیں اور نمایاں چمک کے ساتھ اپنا نمونہ دکھلاتے ہیں ۔ اگر تمام قوموں کے بعض افراد میں فطرتاً سعادت کا مادہ نہ ہوتا تو تبدیل مذہب سے بھی وہ مادہ پیدا نہ ہو سکتا کیونکہ خدا کی فطرت میں تبدیل نہیں ۔ اگر کوئی حقیقی سچائی کا بھوکا اور پیاسا ہے تو ضرور اس کو ماننا پڑے گا کہ مذہب کے وجود سے پہلے یہ خدا داد تقسیم طبائع میں ہو چکی ہے کہ کسی کی فطرت میں غلبہ حلم اور محبت اور کسی کی فطرت میں غلبہ درشتی اور غضب ہے۔ اب مذہب یہ سکھلاتا ہے کہ وہ محبت اور اطاعت اور صدق اور وفا جو مثلاً ایک بت پرست یا انسان پرست مخلوق کی نسبت عبادت کے رنگ میں بجا لاتا ہے ان ارادوں کو خدا کی طرف پھیرے اور وہ اطاعت خدا کی راہ میں دکھلائے ۔ یہ سوال کہ مذہب کا تصرف انسانی قوئی پر کیا ہے انجیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ انجیل حکمت کے طریقوں سے دور ہے۔ لیکن قرآن شریف بڑی تفصیل سے بار بار اس مسئلہ کو حل کرتا ہے کہ مذہب کا یہ منصب نہیں ہے کہ انسانوں کی فطرتی قوی کی تبدیل کرے اور بھیڑیئے کو بکری بنا کر دکھلائے بلکہ مذہب کی صرف علت غائی یہ ہے کہ جو قوی اور ملکات فطرتاً انسان کے اندر موجود ہیں ان کو اپنے محل اور موقعہ پر لگانے کے لئے رہبری کرے۔ مذہب کا یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی فطرتی قوت کو بدل ڈالے۔ ہاں یہ اختیار ہے کہ اس کو حل پر استعمال کرنے کے لئے ہدایت کرے اور صرف ایک قوت مثلاً رحم یا عفو پر زور نہ ڈالے بلکہ تمام قوتوں کے استعمال کیلئے وصیت فرمائے کیونکہ انسانی قوتوں میں سے کوئی بھی قوت بُری نہیں بلکہ ں بلکہ افراط اور تفریط او ریط اور بد استعمالی بری ہے اور جو شخص قابل ملامت ہے وہ صرف فطرتی قوی کی وجہ سے قابل ملامت نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی کی وجہ سے قابل