استفتاء — Page 315
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۱۵ جلسه احباب چونکہ لڑائی کا موقع تو جاتا رہا ہے اب بموجب حالت زمانہ ہم لوگ ہر طرح خدمت کے اس لئے حاضر ہیں اور ہم ایسا کیوں نہ کریں جبکہ اس گورنمنٹ کا ہم پر خاص احسان ہے وہ یہ کہ سکھوں کے عروج کے زمانہ میں سکھوں نے اس ریاست کو بہت دق کیا تھا اور اگر وقت پر جنرل اختر لونی صاحب ابر رحمت کی طرح تشریف نہ لے آتے تو یہ ریاست کبھی کی اس خاندان سے نکل کر سکھوں کے ہاتھ میں ہوتی ۔ پس ہمارا خاندان تو ہر طرح گورنمنٹ کا مرہون منت ہے ۔ اور اب یہ سلسلہ بہ سبب حضور اور زیادہ مستحکم ہو گیا اور جوا احسانات گورنمنٹ کے ہماری جماعت پر ہیں وہ قند مکرر کا لطف دینے لگے تو مجھ کو ضروری ہوا کہ اپنے ہمسروں سے بڑھ کر کچھ کیا جائے ۔ ، اوّل ۔ چراغا نہ قریب کی مسجد پر اور اپنے رہائشی مکان پر بہت زور سے کیا گیا بلکہ ایک مکان بیرون شہر جو ایک گاؤں سروانی کوٹ نام میں میرا ہے اُس پر بھی کیا گیا کل مکانوں پر اوّل سفیدی کی گئی اور مختلف طرز پر چراغ نصب کئے گئے اور ایک دیوار پر چراغوں میں یہ عبارت لکھی گئی ۔ God save our Empress یعنی خدا تعالیٰ ہماری قیصرہ کو سلامت رکھے ۔ قریباً تمام شہر سے بڑھ کر ہمارے ہاں روشنی کا اہتمام تھا ۔ مگر عین وقت پر ہوا کے ہونے سے ۲۲ کو وہ روشنی نہ ہو سکی اس لئے تمام شہر میں ۲۳ رکو روشنی ہوئی مگر اُس روز بھی ہوا کے سبب اونچی جگہ روشنی نہ ہوسکی ۔ دوم ۔ تین ٹرائفل آرچ ۔ ایک بر سر کوچہ اور دو اپنے مکان کے سامنے بنائے گئے اور ان پر مندرجہ ذیل عبارات سنہری لکھ کر لگائی گئیں ۔ اول بر سر کوچہ جشن ڈائمنڈ جو بلی مبارک باد ۔ دوم اپنے رہائشی مکان کے دروازہ پر انگریزی میں Welcome یعنی خوش آمدید لکھا تھا ۔ سوم دروازہ کے مقابل تیسری محراب پر لکھا تھا ۔ ” قیصرہ ہند کی عمر دراز اور سروانی کوٹ میں بھی ایک ٹرائفل آرچ بنائی گئی تھی ۔ سوم - ۲۲ جون کو شام کے چھ بجے اپنی جماعت کے اصحاب کو جمع کر کے