استفتاء — Page 238
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۸ حجة الله أتنكر آية خالق الأرض والسما أأنت تحارب قَدْرَه أيها الشقى کیا تو خدا کے نشانوں سے انکار کرے گا کیا تو اے شقی اس کی تقدیر سے جنگ کرے گا أتذعرنا كالذئب يا كلب جيفة وإنا توكلنا على حافظ يقى اے مردار کے کتے کیا تو ہمیں بھیڑیے کی طرح ڈراتا ہے اور ہمیں اس نگہبان پر تو کل ہے جو نگہ رکھنے والا ہے رضينا برب يُظهر الخير وَالهُدى رَضينا بعسرٍ إِنْ قَضى أو تَفَنَّقِ ہم خدا سے جو خیر اور ہدایت کو ظاہر کرتا ہے راضی ہو گئے اور ہم تنگدستی پر راضی ہو گئے اگر وہ چاہے اور یا تنعم پر أأنت تُؤَيّد فاسقا غير صالح أَحَلتَ بجهلك أيها الغُول فائق کیا تو فاسق ہونے کی حالت میں مدد کیا جائے گا یہ تو کلمہ محال منہ پر لایا پس تو بہ کر وإني إذا ما قمت لله مُخلصًا فأيدنى ربّی معینی مُوفّقی اور میں جب اخلاص سے خدا کے لئے کھڑا ہوا پس خدا توفیق دہندہ نے میری مدد کی وكان لي الرحمن في كل مَوْطِنٍ فَمَزَّقْتُكم بالله كلَّ المُمَزَّقِ اور خدا میرے لئے ہر میدان میں تھا پس میں نے خدا کے ساتھ تم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ وأعطيت قلما مثل منجرد الوغى فيسعر نيرانا وكالبرق يخفق اور میں قلم لڑائی کے گھوڑے کی طرح دیا گیا ہوں پس آگ کو سلگاتی ہے اور برق کی طرح ہلتی ہے مِكَرٌ مِفَرٌ مُقبل مُدبِرٌ معًا كداب أجارِدَ عند موقدِ مأزق حملہ کر نیوالے بھاگنے والے آگے ہو نیوالے پیچھے ہو نیوالے جیسا کہ لڑائی کے میدان میں عمدہ گھوڑوں کی عادت ہے وإن يراعى صارم يحرق العدا كنار وما النيران منه بأحرق اور میرا قلم ایک تلوار ہے جو دشمنوں کو جلاتا ہے اور آگ اس سے کچھ زیادہ جلانے والی نہیں وإن كلامي مثل سَيْفِ مقطع يَجُدُّ رؤوس المفسدين ويفرق اور میرا کلام شیخ بران کی طرح ہے مفسدوں کا سر کاٹتی اور جدا کرتی ہے وإني إذا حاوَلْتُ كَلِمًا فصيحةٍ فناولني ربي أفانين منطقى اور جب میں نے خدا سے کلمات فصاحت طلب کئے پس میں اپنے رب سے گونا گوں فصاحت کلام دیا گیا۔ وأعطيتُ في سُبل الكلام قريحة كحوجاء مرقال تزج وتدبق ☆ اور کلام کی راہوں میں ایسی طبیعت دیا گیا ہوں جو اس اونٹنی لاغر کی طرح ہے جو جلد اور ہر ایک اونٹنی پر مقدم رہتی ہے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے عوجاء“ ہونا چاہیے۔ سبع معلقات کے دوسرے قصیدہ میں عوجاء مرقال استعمال ہوا ہے۔(ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” تدلق “ ہونا چاہیے۔(ناشر)