استفتاء — Page 224
۷۶ روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۴ حجة الله القَصِيدَة الثانية لك الحمد يا تُرسى و حرزی و جوسقى | بحمدك يُرْوَى كلُّ مَن كان يستقى اے میری پناہ اور میرے قلعہ تیری تعریف ہو تیری تعریف سے ہر ایک شخص جو پانی چاہتا ہے سیراب ہو جاتا ہے بذكرك يجرى كل قلب قد اعتقى بحبك يحيى كل مَيْتٍ مُمَزَّق تیرے ذکر کیساتھ ہر ایک دل ٹھہرا ہوا جاری ہو جاتا ہے اور تیری محبت کے ساتھ ہر ایک مردہ زندہ ہو جاتا ہے و باسمك يُحفظ كل نفس من الردا وفضلك يُنجى كلَّ مَن كان يُرْبَق - اور تیرے نام کے ساتھ ہر ایک شخص ہلاکت سے بچتا ہے اور تیرا فضل ہر ایک قیدی کو رہائی بخشتا ہے وما الخير إلا فيك يا خالق الورى وما الكهف إلا أنت يا مُتَّكَأُ التَّقِى اور تمام نیکی تیری طرف سے ہے اے جہان آفرین اور تو ہی پرہیز گاروں کی پناہ ہے وتعنو لك الأفلاك خوفا وهيبة وتجرى دموع الراسيات وتثبق اور تیرے آگے خوفناک ہو کر آسمان جھکے ہوئے ہیں اور پہاڑوں کے آنسو جاری اور رواں ہیں وليس لـقـلبــي يــا حفیظی و ملجأى سواك مريح عند وقت التأزق اور میرے دل کیلئے اے میرے نگہبان اور پناہ کوئی دوسرا آرام پہنچانے والا نہیں جب تنگی وارد ہو يميل الورى عند الكروب إلى الورى وأنت لنا كهف كبيت مُسَردَق دکھ کے وقت خلقت خلقت کی طرف توجہ کرتی ہے اور تو ہمارے لئے ایسی پناہ ہے جیسے نہایت مضبوط گھر وإنك قد أنزلت آيات صدقنا فويل لعمر لا يراها وينهق اور تو نے ہمارے صدق کے نشان اتارے ہیں پس وہ نادان ہلاک شدہ ہے جو ان نشانوں کو نہیں دیکھتا اور بے معنی شور کرتا ہے ألم يرَ عِجُلا مات في الحي داميًا أهذا من الرحمن أو فعل بندقي؟ کیا اس گوسالہ کو اس نے نہیں دیکھا جو اپنے قبیلہ میں خون آلودہ ہوکر مر گیا کیا یہ خدا کا فعل ہے یا میری بندوق کا کام ہے أرى الله آيته بتدمير مفسد وتعرفها عين رأت بالتعمق خدا نے اپنا نشان ایک مفسد کو ہلاک کر کے دکھلا دیا اور اس نشان کو وہ آنکھ پہچان سکتی ہے جو غور سے دیکھے وما كان هذا أوّل الآي للعدا بل الآى قد كثرت فأمعن وحقق اور یہ دشمنوں کے لئے کوئی پہلا نشان نہیں بلکہ نشان بہت ہیں پس سوچ اور تحقیق کر