استفتاء — Page 220
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۰ حجة الله ۷۲ علی صاحبیک؟ إنهما فرا وفقاء اعينيك، وما جاء اني كالمباهلين۔ وأي خوف منعهما من المباهلة دونوں صاحبوں کو کیا پیش آیا وہ دونوں بھاگ گئے اور تجھے اندھا کر گئے ۔ اور مباہلہ کر نیوالوں کی طرح میرے مقابل پر نہ آئے ۔ اور کس إن كانا يكفراني على وجه البصيرة؟ فأين ذهبا إن كانا من الصادقين؟ ومن أقوالك في اشتهارك خوف نے ان کو مباہلہ سے منع کیا اگر وہ علی وجہ البصیرت مجھ کو کافر جانتے تھے۔ پس کہاں چلے گئے اگر وہ سچے تھے۔ اور منجملہ تیرے أنك خاطبتني وقلت بكمال إصرارك : إنك تحترق في النار وتغرق في الماء ، ولا يمسنى ضر | اقوال کے جو تیرے اشتہار میں ہیں جو تو نے مجھے مخاطب کر کے بکمال اصرار کہا ہے کہ تو آگ میں جل جائے گا اور پانی میں غرق ہو جائے لو دخلتهما وأحفظ من البلاء أما الجواب۔ فاعلم أيها الكذاب أنك رأيت كل ذالك بعد المباهلة گا اور مجھے اگر ان دونوں میں داخل ہوں کچھ دکھ نہیں پہنچے گا۔ مگر ہمارا جواب اسے کذاب یہ ہے کہ تو پہلے مباہلہ کے بعد یہ سب کچھ دیکھ چکا الأولى، وأُغرقت وأُحرقت يا فضلةَ النُّوكى۔ فأنبتنا أين خرجت من الماء ؟ بل من في ماء التندم ہے۔ اور تو غرق کیا گیا اور جلایا گیا اے احمقوں کے فضلے۔ پس ہمیں بتلا کہ کب تو پانی میں سے نکلا۔ بلکہ تو تو ندامت کے پانی میں بدبختوں کی كالأشقياء ۔ وأين نُجيت من النار ؟ بل احترقت بنار الحسرة التي تطلع على الأشرار، وما صارت طرح ڈوب گیا اور کہاں تجھے آگ سے نجات حاصل ہوئی ۔ بلکہ تو اس حسرت کی آگ سے جل گیا جو شریروں پر بھڑکتی ہے اور تیرے النار عليك بردًا وسلامًا، بل أكلتك نار إخزاء الله ولقيت آلامًا، وكذلك يُخزى الله المفترين۔ پر آگ ٹھنڈی نہ ہوئی بلکہ خدا کی رسوا کرنے کی آگ تجھ کو کھا گئی اور کئی دردوں کو تو جاملا۔ اور اسی طرح خدا مفتریوں کو رسوا کرتا ہے۔ إن الذين يتكبّرون بغير الحق هم الفاسقون حقا ولو حَسِبُوا أنفسهم من الصالحين۔ والذين وہ لوگ جو ناحق تکبر کرتے ہیں وہی درحقیقت فاسق ہیں اگر چہ اپنے تئیں صالح سمجھیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کا وَجَدُوا فضل ربّهم يعرفون بأنوارهم، ويمشون على الأرض هونا لانكسارهم، ولا يمشون فضل پانے والے ہیں وہ اپنے نوروں سے پہچانے جاتے ہیں اور تواضع کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور تکبر سے قدم مستكبرين۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔ نہیں رکھتے ۔ اور آخری دعا ہماری الحمد لله رب العالمین ہے۔