استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 494

استفتاء — Page 201

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۱ حجة الله نفوسهم الأمارات، ونذيقهم جزاء السَّبُعِيّة وسوء الجذبات، وإنما الأعمال بالنيات، وإن ۵۳ ان کے نفوس امارہ کو توڑیں اور ان کو درندگی اور بد جذبوں کی سزا چکھائیں ۔ اور تمام کام نیتوں کے ساتھ ہیں اور الله يعلم ما في القلوب ويعلم ما في الأرض والسماوات ۔ وإنّا أسسنا كل ما قلنا على تقوى خدا تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ دلوں میں ہے اور جانتا ہے جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اور ہم نے ہر ایک امر کی تقوی اور دیانت وديانة، وصدق وأمانة، واجتنبـنـا الرفث وفضول الهذر، وكل شجرة تُعرَف من الثمر ۔ پر بنیاد ڈالی ہے اور ہم نے فحش گوئی سے پر ہیز کی ہے اور ہر ایک درخت پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور ہم اس خناس ونستكفى برب الناس الافتنان، بهذا الوسواس الخنّاس ۔ ونعلم بعلم اليقين أنه ليس بذاته کے فتنہ میں پڑنے سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہم یقینی علم سے جانتے ہیں کہ وہ بذات خود اس سب اور توہین کا مبدأ هذا السب والتوهين، بل علّمه إبليس آخر من الغزنويين ۔ ولا ريب أنهم هم العلل موجب نہیں بلکہ اس کو غز نویوں میں سے ایک اور شیطان نے سکھایا ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ یہی لوگ اس کے فتنہ کے الموجبة لفتنته، ومنبت شُعبته، وجرموثةُ شَذَبَتِه، وحطب تلهب جذوته، ومحرك موجب ہیں اور اس کی شاخ کے منبت اور اسکی شاخ کی جڑ ہیں اور اس کے شعلہ کے اشتعال کے ہیزم ہیں اور اسکی آواز عومرته۔ يذكرون النعلين عند المقال، كأنهم يتمنون ضرب النعال، ويتضاغى رأسهم لِيُدَقَّ اور فریاد کے موجب بات کے وقت جوتوں کا ذکر کرتے ہیں گویا وہ جوتوں کے خواہشمند ہیں اور ان کا سر فریاد کر رہا ہے بالأحذية الثقال ۔ وما قام عبد الحق هذا المقام الشاين، إلا بعد ما أروه صفاتي كمشاين تا کہ نعلوں کے ساتھ کوفتہ کیا جائے۔ اور عبد الحق اس بد مقام پر کھڑا نہیں ہوا ۔ مگر بعد اس کے کہ میری صفات اس کو ان فويل لهم إلى يوم القيامة، ما سلكوا كأبيهم طرق السلامة، وتركوا سبل الصلاح لوگوں نے معائب کی طرح دکھائیں پس قیامت تک ان پر واویلا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کی طرح سلامتی کے طریق معتدين ۔ وإنهم ما استسروا عنّى حينا من الأحيان، وأعلم أنهم هم المفسدون کی پیروی نہیں کی اور صلاحیت کو چھوڑ دیا اور وہ کبھی مجھ سے چھپے نہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہی مفسد اور ظلم کے